اعظم شہاب

زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہم نے کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد میں برازیل کو پچھاڑتے ہوئے دنیا میں دوسرا مقام حاصل کرلیا تھا۔ اس اعزاز پر ابھی مبارک سلامت کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ہم نے متاثرین کی یومیہ تعداد میں امریکہ کو پٹخنی دے دی جویہ ریکارڈ اپنے نام پر رکھتا تھا۔ امریکہ میں گزشتہ سال ستمبر میں کورونا متاثرین کے سب سے زیادہ تعداد 3 لاکھ 7 ہزار تھی، جبکہ ہمارے یہاں کی یو میہ تعداد ساڑھے تین لاکھ سے ایک روز قبل ہی متجاوز ہوچکی ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو بعید نہیں کہ ہم مجموعی کیسیس کے معاملے میں بھی دنیا میں اول مقام پر پہنچ جائیں۔ ظاہر ہے یہ اعزاز’آپدا میں اوسر‘ اور’آتم نربھرتا‘ سے ہی ہمارے ملک کو مل سکا ہے، وگرنہ کورونا کے ابتدائی دنوں میں کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ہم اس بلند ترین مقام کو عبور کرسکیں گے۔

بس ایک راہل گاندھی تھے جو مسلسل اس کی پیشین گوئی کر رہے تھے، مگر ہماری حکومت نے اس پر کان نہ دھر کر یہ ثابت کر دیا کہ کانگریس کو بھلے ہی حکومت چلانی آتی ہو، انتخاب جیتنا نہیں آتا ہے۔ بہرحال ہمارے ملک کو یہ بلند ترین اعزاز، ہمارے ہی نہیں بلکہ دنیا کے سب سے بڑے ’مہا پوروش‘ نریندر مودی کے طفیل حاصل ہوسکا ہے، اور آخر کیوں نہ ہو کہ جب تک مودی جی ہیں، سب کچھ ممکن ہے۔

لیکن اگر ہم ملک میں کورونا متاثرین، مہلوکین اور حکومت کے طبی نظام کے استحکام و فراہمی کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے مجموعی کیسیس کے لحاظ سے بھی دنیا میں اول مقام حاصل کرلیا ہے، بس اعلان باقی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے مغربی بنگال میں بی جے پی دو سو سے زائد سیٹوں پر کامیاب ہوچکی ہے، بس اعلان باقی ہے۔ یہ باتیں ہم اس لیے کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ چند دنوں سے کچھ ایسے کیسیس ہمارے سامنے آرہے ہیں جس سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ کچھ بدخواہ لوگ ملک میں کورونا سے متاثر ہونے اور اپنی جانیں گنوانے والوں کی تعداد پر قصداً پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو مرکزی حکومت کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو دیش کا غدار قرار دیتے ہوئے ان پر دیش دروہ کا مقدمہ درج کرے۔ کیونکہ آج دنیا میں ہم نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ ہمارے پردھان سیوک و ان کی ٹیم کی کافی ’تپسیاؤں‘ سے حاصل ہوا ہے، جسے ملیامیٹ کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔

ہمارا ہندی میڈیا تو کورونا کی روک تھام کے معاملے میں حکومت کی کارگزاریوں کو تذکرہ خوب کر رہا ہے، مگر وہ ان خبروں پر معلوم نہیں کیوں خاموش رہ جاتا ہے کہ کورونا سے مرنے والوں کی تعداد کو انتظامیہ کی جانب سے کم بتائی جا رہی ہے۔ دینک بھاسکر نامی اخبار نے تو 3 روز قبل یعنی 22؍اپریل 2021 کو اس ضمن میں ایک پوری اسٹوری کی ہے جو معلوم نہیں کیسے ابھی تک اس کے ویب صفحے پر موجود بھی ہے۔ اس اسٹوری میں 10؍شہروں کی 10 دردناک تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ یہ اسٹوری کرنے والے ہمانشومشرا ہیں، جنہوں نے ابتدا میں کچھ یوں لکھا ہے کہ ’ہمارا مقصد آپ کو خوفزدہ کرنا نہیں، بلکہ سچائی سے روبرو کرانا ہے جسے جاننا آپ کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری فائلوں میں درج کورونا سے ہونے والی اموت کی تعداد سے حقیقت کہیں زیادہ بھیانک ہے‘۔ اپنی اس اسٹوری میں انہوں نے بھوپال کے بھدبھدا شمشان گھاٹ کی ایک تصویر پیش کی ہے، جس میں جلتی ہوئی چتاؤں کی قطاریں نظر آرہی ہیں اور جس کا کیپشن کچھ یوں لکھا ہوا ہے کہ ”یہاں ہر دن 100؍سے 150؍لوگوں کو انتم سنسکار ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری اعداد میں پورے ضلع میں صرف 10؍سے ؍12موتیں ہی درج ہو رہی ہیں“۔ اسی بھوپال کی ایک ہفتہ قبل کی ایک رپورٹ کچھ یوں ہے کہ 15؍اپریل کو یہاں 112؍لوگوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ بھدبھدا گھاٹ پر72 ، سبھاش نگر میں 30؍ اور قبرستان میں 10؍لاشیں دفن کی گئی مگر سرکاری اعداد وشمار میں آج بھی یہ تعداد 4 درج ہے۔ اس سے قبل پانچ دنوں کے اندر یہاں 356 کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات اد کی گئیں مگر سرکاری سطح پر ان کی تعداد صرف 21 بتائی گئی ہے۔

اترپردیش کے لکھنؤ میں واقع بھیساکنڈ شمشان گھاٹ کی تصویر پیش کرتے ہوئے کیپشن لکھا گیا ہے کہ ’یہاں ایک ساتھ 184 لاشوں کا انتم سنکار کا ویڈیو سامنے آیا تھا، جبکہ سرکاری تعداد میں روزآنہ راجدھانی میں 10؍سے 25موتیں ہی درج ہوتی ہیں۔ کفن پوش لاشوں کی ایک تصویر کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ فوٹو گجرات کے احمدآباد کی ہے۔ یہاں کے گھاٹوں وقبرستانوں میں ہر دن تقریباً 100 سے 150 لوگ کی آخری رسومات کووڈ پروٹوکول کے تحت ادا ہو رہی ہیں، لیکن سرکاری فائلوں میں صرف 20 سے 25؍موتیں ہی درج ہو رہی ہیں۔ اسی گجرات کی ایک رپورٹ 13؍اپریل 2021 کو ’سندیش‘ نامی گجراتی اخبار میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق حکومتی سطح پر اعلان ہوا کہ 12؍اپریل کو احمدآباد میں کورونا کے صرف 20 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔ جبکہ اس دن 63 لوگوں کی موت شہر کے صرف ایک کووڈ اسپتال میں ہوئی تھی، جسے حکومت چلا رہی ہے۔ اسی گجرات میں جام نگر میں ایک اسپتال ہے گوروگوبند سنگھ جو کورونا کے مریضوں سے بھرا پڑا ہے۔ جام نگر کے بارے میں حکومت نے 10؍اپریل کو دعوی کیا ہے کہ ایک بھی مریض کی موت نہیں ہوئی، جبکہ ایک مقامی گجراتی نیوز پیپر ’خبر گجرات‘ کے مطابق 48 گھنٹے میں تقریباً 100؍لوگوں کو کوورنا کی وجہ سے اپنی جانیں گنوانی پڑی ہیں اور 13؍اپریل کو یہ تعداد 54 تھی۔ کرناٹک کے بنگلورو شہر کے بومان ہالی گھاٹ کی ایک تصویر پیش کی گئی ہے جس میں ایمبولینس کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہاں ہر دن 100؍سے 200؍ لوگوں کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں جبکہ سرکاری فائلوں میں یہ تعداد 50 سے 70 درج ہو رہی ہے۔

مذکورہ بالا اموات اور حکومتی سطح پر جاری ان کی تعداد محض چند مثالیں ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح مرنے والوں کی اصل تعداد پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ اعداوشمار کے پردہ پوشی کی یہ رپورٹ مقامی سطح کی ہے، لیکن جب یہ تعداد ایک ساتھ جمع ہوتی ہوں گی تو ان پر کس قدرپردہ پوشی کی جاتی ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد کیوں چھپائی جا رہی ہے؟ تو اس کا جواب بھی مودی سرکار کی ’آپدا میں اوسر‘ کی پالیسی میں ہی پوشیدہ ہے۔ اعداد وشمار کو چھپانے کے یہ معاملے زیادہ تر بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں کے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں، انتظامی مہارت وہیلتھ انفراسٹرکچر کی مضبوطی کی وجہ سے کورونا کی وبا پر قابو پالیا ہے۔ ایسے میں اگر ان کے یہاں سے مرنے والوں کی حقیقی اعداد وشمار ملک کے سامنے آجائے تو ظاہر سی بات ہے کہ ان کی تضحیک ہوگی۔ اب ایسی صورت میں انہوں نے یہ پالیسی ہی بنالی کی کورونا سے مرنے والوں کی تعداد پر ہی پردہ ڈال دیا جائے۔ کیونکہ جب حکومت ہی پردہ ڈال دے تو پھر چاہے پوری ملک کے عوام ہی کیوں نہ چلانے لگے، کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کے برخلاف جن ریاستوں میں کورونا کے مریضوں اور اموات کی تعداد زیادہ ہے وہ ظاہر ہے کہ حقیقی معنوں میں اس وبا سے لڑ رہے ہیں اور مرکز سے مزید طبی سہولیات سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

(مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے، اس سے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)