• 425
    Shares

دو امریکی کمپنیوں کی جانب سے کورونا سے تحفظ کے لیے بنائی گئی منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا کے ابتدائی نتائج حوصلہ کن آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دوائی مریضوں میں موت کے خطرات کو 50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

امریکی کمپنی مرک اینڈ کو انکارپوریشن نے بتایا ہے کہ اس کی کووڈ 19 کے علاج کے لیے تجرباتی دوا مولنیوپیراویر کے استعمال سے مریض کے ہسپتال داخل ہونے یا موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرتی ہے۔کمپنی کی جانب سے اس تجرباتی دوا کے کلینکل ٹرائل کے عبوری نتائج یکم اکتوبر کو جاری کیے گئے۔

مرک اور اس کی شراکت دار کمپنی ریجبیک بیک بائیو تھراپیوٹیکس امریکا میں اس دوا کے لیے ہنگامی استعمال کی منظوری جلد از جلد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔اسی طرح دنیا بھر میں ریگولیٹری اداروں کے پاس بھی درخواستیں جمع کرائی جائیں گی، مثبت نتائج کے باعث ٹرائل کے تیسرے مرحلے کو جلد روک دیا گیا ہے۔

مرک کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ ڈیوس نے بتایا کہ اس پیشرفت سے دنیا بھر میں کووڈ کی وبا کے حوالے سے ڈائیلاگ میں تبدیلی آئے گی۔اگر اس دوا کو منظوری ملی تو یہ کووڈ 19 کے علاج کے لیے منہ کے ذریعے کھائی جانے والی دنیا کی پہلی اینٹی وائرل دوا ہوگی۔

اس ٹرائل میں 775 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج میں دریافت کیا گیا کہ پلیسبو گروپ میں 8 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ دوا استعمال کرنے والے گروپ کا کوئی مریض ہلاک نہیں ہوا۔
ٹرائل کے لیے دنیا بھر سے کووڈ 19 کی معمولی سے معتدل شدت کا سامنا کرنے والے ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی علامات کو 5 دن سے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ان مریضوں کو 5 دن تک ہر 12 گھنٹے بعد دوا استعمال کرائی گئی۔

یہ دوا کورونا کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے اور مریضوں میں اس کے مضر اثرات معمولی رہے۔ریج بیک کے سی ای او وینڈی ہولمین نے کہا کہ کووڈ کے مریضوں کا اینٹی وائرل علاج گھر پر ہوسکے گا۔

مرک 2021 کے آخر تک اس دوا کے ایک کروڑ کورسز تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں سے 17 لاکھ امریکی حکومت کو فروخت کیے جائیں گے۔

کمپنی کی جانب سے دنیا بھر کی حکومتوں سے اس طرح کے معاہدے کیے جائیں گے اور قیمت کا تعین ملک کی آمدنی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا جبکہ امریکا کو 700 ڈالر فی کورس دوا فراہم کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اب تک کووڈ 19 کا کوئی مؤثر علاج دریافت نہیں ہوسکا بلکہ عموماً اس کی علامات کا علاج کیا جاتا ہے تاکہ مرض کی شدت بڑھ نہ سکے۔

مگر بدقسمتی سے یہ طریقہ کار ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا اور بیماری کی شدت بڑھنے پر موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کووڈ 19 کی بیماری کے علاج کی تیاری پر دنیا بھر میں کام کیا جارہا ہے اور ان میں سے ایک دوا فائزر کی جانب سے بھی تیار کی جارہی ہے۔

اسی طرح سوئس کمپنی روشی ہولڈنگ اے جی کی جانب سے بھی کووڈ 19 کے علاج کے لیے اینٹی وائرل دوا کی تیاری کا کام تیز کردیا گیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔