ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے۔ اس تباہی سے ابھی نجات ملی نہیں تھی کہ تیسری لہر آنے کی پیشین گوئیاں بھی ہو چکی ہیں۔ اس خبر سے لوگوں میں ایک خوف کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ تیسری لہر کی پیشین گوئی کسی اور نے نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سائنسی مشیر وجے راگھون نے کی ہے۔ وجے راگھون کے دعووں پر آئی ٹی کانپور کے پروفیسر مانیندر اگروال نے بھی اپنی مہر لگا دی ہے۔

’دینک بھاسکر‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق آئی آئی ٹی کانپور کے اس پروفیسر کا دعویٰ ہے کہ جولائی تک کورونا کی دوسری لہر کا اثر کافی حد تک قابو میں آ جائے گا، لیکن ساتھ ہی انھوں نے ایک ڈرانے والا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے ڈاٹا اینالیسس کر کے بتایا ہے کہ اکتوبر میں کورونا کی تیسری لہر ملک میں شروع ہو جائے گی۔ حالانکہ پروفیسر نے اپنی اس اسٹڈی میں یہ نہیں بتایا ہے کہ تیسری لہر ملک کے لیے کتنی خطرناک ہونے والی ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو اپنی تیاریاں پختہ رکھنی چاہیئں۔ ملک کو اپنی جانب سے ہر صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

بات چیت کے دوران پروفیسر مانیندر اگروال نے کہا کہ دوسری لہر کا عروج 15-10 مئی کی جگہ ایک سے دو ہفتے آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ ابھی اس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کچھ بھی کہنا جلدبازی ہوگا۔ آئی آئی ٹی کانپور کے پروفیسر مانیندر اگروال نے کورونا کی ممکنہ تیسری لہر کا اثر کم کرنے کے لیے تین مشورے بھی دیے ہیں۔ ان کے مطابق ستمبر-اکتوبر تک ملک کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو کورونا ویکسین لگائی جائے۔ نئے کووڈ ویرئینٹس کی جلد شناخت کر انھیں پھیلنے سے روکا جائے۔ سبھی ریاستی حکومتیں ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور ٹریٹنمنٹ پر زیادہ توجہ دیں۔