نئی دہلی:ہندوستان میں کورونا وبا ہر نئے دن کے ساتھ خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پورے ملک میں روزانہ لاکھوں لوگوں کے متاثر ہونے سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ اسپتالوں میں بستر کم پڑتے جا رہے ہیں، آکسیجن اور ضروری دواؤں کی زبردست قلت ہوتی جا رہی ہے۔ اسے لے کر لوگوں میں دہشت کا عالم ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ملک کے تین بڑے ڈاکٹرس نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کر کورونا پر لوگوں کو جانکاری دی۔ ان میں دہلی ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا، نارائن ہیلتھ کے چیئرمین ڈاکٹر دیوی شیٹی اور میدانتا اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر نریش تریہن شامل رہے۔

گفتگو کی شروعات میں نارائن ہیلتھ کے چیئرمین ڈاکٹر دیوی شیٹی نے کہا کہ اگر کسی کو کورونا کی علامت نظر آ رہی ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے بات کریں اور جتنی جلدی ہو سکے اپنا کورونا ٹیسٹ کروا لیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ پازیٹو آتے ہیں تو اس میں بھی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ اگر حالات زیادہ سنگین نہیں ہیں تو گھر پر رہ کر علاج کرائیں۔ ڈاکٹر شیٹی نے کہا کہ آکسیجن لیول 94 سے کم ہونے پر ڈاکٹر سے بات کریں۔ انھوں نے کہا کہ کورونا اب کامن ہو چکا ہے۔

اس دوران میدانتا اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر نریش تریہن نے کہا کہ کورونا کی علامت نظر آنے پر فوراً خود کو آئسولیٹ کرنا چاہیے اور ٹیسٹ کرانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ رپورٹ پازیٹو آنے پر گھبراہٹ میں اسپتال نہ بھاگیں۔ ہلکی علامت ہونے پر گھر میں کوارنٹائن ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر آکسیجن لیول میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے تو اسپتال میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر تریہن نے کہا کہ ریمیڈیسیور انجکشن کورونا میں ’رام بان‘ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف ان لوگوں میں وائرل لوڈ کو کم کرتا ہے جنھیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

پریس کانفرنس میں شامل ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ کورونا کے 85 فیصد سے زیادہ مریض ریمیڈیسیور جیسی خصوصی دواؤں یا خاص علاج کے بغیر ٹھیک ہو رہے ہیں۔ بیشتر لوگوں میں عام سردی، گلے میں خراش وغیرہ جیسی علامتی ہیں اور وہ گھر پر ہی عام علاج سے 5 سے 7 دنوں میں ٹھیک ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیشتر لوگ جو گھر میں آئسولیٹ یا اسپتال میں ہیں، ان کو گھبرانا نہیں ہے۔

ڈاکٹر گلیریا نے آگے کہا کہ ریمیڈیسیور کو آپ جادو کی گولی نہ سمجھیں۔ بہت کم لوگوں کو ریمیڈیسیور کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح آکسیجن کو لے کر بھی انھوں نے کہا کہ آکسیجن ایک علاج ہے، کوئی دوا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم آکسیجن اور ریمیڈیسیور کا دانشمندی سے استعمال کریں گے تو ملک میں کہیں بھی ان کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔

پریس کانفرنس میں ملک کے تینوں بڑے ڈاکٹروں نے اپیل کی ہے کہ سبھی لوگ اپنی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے باہر نکلیں، سوشل ڈسٹنسنگ پر سختی سے عمل کریں، بار بار ہاتھ دھوئیں۔ ساتھ ہی لوگوں سے گزارش کی کہ ڈاکٹر کی صلاح پر ہی دوائیاں لیں اور اپنے کھانے پینے کا دھیان رکھیں۔ خاص کر گرمی کے موسم کے مطابق لیکوئڈ ڈائٹ لگاتار لیتے رہیں۔