Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

کورونا بحران میں ایمبولنس ڈرائیوراظہارحسین نے بیان کیا درد، ’پہلے اسپتال پہنچاؤ، پھر قبرستان‘

IMG_20190630_195052.JPG

downloadممبئی:ممبئی میں کورونا کا قہر بہت زیادہ ہے اور یہاں سبھی خوفزدہ ہیں کہ پتہ نہیں آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ اس درمیان ایک ایمبولنس ڈرائیور اظہار حسین شیخ نے موجودہ ماحول کا درد بیان کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پہلے تو مریضوں کو اسپتال پہنچانا ہوتا ہے، اور پھر کئی بار انھیں قبرستان تک لے جانا ہوتا ہے جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اظہار حسین کا کہنا ہے کہ کئی بار تو اسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی مریض کا انتقال ہو جاتا ہے اور یہ انتہائی تکلیف ہوتا ہے۔

اظہار حسین شیخ کی روداد ہندی نیوز پورٹل ‘نیوز 18’ پر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے فون کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے۔ وہ لگاتار کووڈ-19 کے مریضوں کو اسپتال پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔ 30 سالہ اظہار ‘ہیلپ ناؤ’ نامی ادارہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کےلیے عام لوگوں سے پیسے لیے جاتے ہیں، لیکن شہر انتظامیہ، پولس اور غریبوں کے لیے یہ ایمبولنس سہولت بالکل مفت ہے۔

اظہار حسین کا کہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں کو اسپتال پہنچانا یا پھر مہلوکین کو قبرستان یا شمشان لے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے، لیکن انسانیت کی خاطر یہ کام کرنا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ "میری فیملی، پڑوسی سبھی بری طرح ڈرے ہوئے ہیں۔ میں خود بھی ڈرا ہوا ہوں، لیکن میں اپنی فیملی اور خود کو یہ لگاتار سمجھتا رہتا ہوں کہ لوگوں کی مدد کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”

موجودہ ماحول میں پیدا مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اظہار حسین کہتے ہیں کہ اصل مشکل مریض کو اسپتال لے کر پہنچنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ کئی بار اسپتالوں کے باہر پانچ گھنٹے تک انتظار کرنا ہوتا ہے۔ جن مریضوں کو آئی سی یو بیڈ کی ضرورت ہوتی ہے، انھیں تو مزید مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ کئی بار اسپتال کے ڈاکٹروں کی طرف سے ڈانٹ بھی پڑتی ہے کہ مریض کو لانے سے پہلے پوچھا کیوں نہیں گیا۔ کئی مریضوں کی جان بیڈ ملنے کا انتظار کرتے ہوئے اسپتال کے باہر ہی ہو جاتی ہے جو کسی جھٹکے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ بہت مایوسی والا وقت ہوتا ہے کیونکہ تھوڑی دیر پہلے میں جو شخص میرے سامنے زندہ تھا، کچھ دیر بعد ہی اسے شمشان گھاٹ لے کر جانا ہوتا ہے۔