نئی دہلی : کورونا کے اس بحران میں ، ملک میں  ہاہا کار مچی ہوئی  ہے۔  وہیںجہاں کئی لوگ دوسروں کی مدد کے لئے آگے آرہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، کچھ لوگ ہیں جو اس وبا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ملک اتنے بڑے بحران سے گزر رہا ہے اور لوگوں میں انسانیت د ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری ایمبولینس نہ ملنے کی وجہ سے کئی لوگ مریضوں کو گھر لے جانے کے لئے نجی ایمبولینس کا سہارا لے رہے ہیں۔ نجی ایمبولینس والے بھی لوگوں کی مجبوری  کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور من مانا کرایہ وصول کررہے ہیں۔

ملک کے ہر حصے سے ایسی خبریں سامن آتی ہیں کہ نجی ایمبولینس والے  لوگوں سے 20 ہزار سے 40 ہزار تک کرایہ لے رہے ہیں۔ گڑگاؤں میں ایک  کورونا کے مریضوں کو ہسپتال پہنچانے  کے لئے  ڈرائیور 20 سے 30 ہزار کی مانگ کررہے ہیں۔ ایک  پریوار نے بتایا کہ پانچ کلومیٹر کے سفر کے لئے   نجی ایمبولینس کے ڈرائیور  نے ان سے تقریباََ ڈیڑھ لاکھ روپے کی  مانگ کی ، جب انہوں  نے اتنا پیسہ دینے میں عاجزی کا اظہار کیا تو وہ 20 ہزار پر   اڑ گیا۔ در حقیقت ،  ہفتے اور اتوار کو ہفتے کے آخر میں ویکینڈ لاک ڈاؤن کے باعث نجی ایمبولینس ڈرائیور اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

گوڑگاؤں کے سیکٹر 56 کے رہائشی نندکشور دیولی نے بتایا کہ اس کے ایک رشتہ دار کو دہرادون شفٹ کرنا تھا اس  کے لئے نجی ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا تھا تو ڈرائیور نے پہلے 70 ہزار روپے مانگے ، جب وہ لوگ راضی ہو گئے  تو ڈرائیور نے 1.50 لاکھ کی مانگ کر دی ۔

ڈرائیور  کا کہنا تھاکہ وہ خالی ایمبولینس لے کر واپس آئے گا ، اس سے اس کا پٹرول  تو خرچ  ہو گا ، لہذا وہ  آنے جانے  کا کرایہ دونوں  کا لے گا ، جو کل 1.50 لاکھ ہوجاتا ہے۔ اس پر ان  لوگوں نے  ایک اور رشتے دار کی گاڑی لی اور مریض کو دہرادون لے کر گئے۔ اسی طرح کا معاملہ نوئیڈا کا ہے جہاں ایمبولینس ڈرائیور نے 25 کلومیٹر کے فاصلے  کے لئے کورونا کے شکار مریض کے اہل خانہ سے 42 ہزار روپے لئے۔ جب اہل خانہ نے پولیس میں شکایت کی تو اس نے کچھ رقم واپس کردی۔