اُدے پور: راجستھان کے ادے پور میں کانگریس کا نو سنکلپ شیویر شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں شرکت کے لیے 400 سے زیادہ مندوبین اور لیڈر ادے پور پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی ادے پور پہنچ چکے ہیں۔ اسی دوران، اس غور و فکر کیمپ سے پہلے کانگریس لیڈران اجے ماکن، رندیپ سرجے والا، ملکارجن کھڑگے نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر اجے ماکن نے کہا کہ کانگریس نے چنتن شیویر کے لیے بلند نظر تجاویز تیار کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک خاندان، ایک ٹکٹ‘ پر بھی بات کی گئی ہے۔ ماکن نے بتایا کہ جب کسی خاندان کا کوئی فرد 5 سال تک پارٹی کے لیے کام کر رہا ہو یا اس نے خود تنظیم کو 5 سال دیے ہیں، اس کے بعد ہی وہ الیکشن لڑ سکے گا۔

اجے ماکن نے مزید کہا کہ اس عہدے کے تعلق سے بات ہوئی ہے کہ کوئی بھی لیڈر 5 سال سے زیادہ کسی عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔ اسے عہدہ چھوڑ کر کم از کم 2 سال خاموش بیٹھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کسی پیراشوٹ امیدوار (باہر سے آنے والا) کو بھی ٹکٹ نہیں ملے گا۔ لیڈروں کے رشتہ داروں کو پہلے 5 سال پارٹی میں کام کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی انہیں ٹکٹ مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز نو سنکلپ چنتن شیویر میں پیش کی جائیں گی۔

قبل ازیں، اپنے خطاب میں اجے ماکن نے کہا، ’’ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کانگریس وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوئی۔ پولنگ بوتھ جوکہ سب سے نچلی سطح پر ہوتا ہے اور بلوک کمیٹی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے، اس خلا کو پر کرنے کے لئے تجویزات طلب کی گئی ہیں۔‘‘ ماکن نے مزید کہا سروے کرنے کا کام صرف الیکشن کے وقت ہی نہیں بلکہ تمام سال جاری رہے گا، جس کی بنیاد پر انعام اور سزا کا تعین کیا جائے گا۔ نو سنکلپ میں اہم تجویزات تیار کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے پینل نے اس کے لیے ایک تفصیلی تجویز پیش کی ہے کہ ہر سطح پر 50 فیصد عہدیداروں کی عمر 50 سال سے کم ہوگی۔ 35 سال تک کے لوگ یوتھ کانگریس میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تنظیم کی ہر سطح پر کم از کم 50 فیصد عہدیداران 50 سال سے کم عمر کے ہوں گے۔

دریں اثنا، کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا ’’جو 6 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، میں ان میں سے ایک کا کنوینر ہوں۔ اس ٹیم میں کم از کم 70 سے 71 لوگ ہوں گے۔ سیاسی امور پر بات چیت کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی، اس میں ہم 9 لوگ شامل تھے۔ سیاسی مسائل پر اپنی رائے دینے کے بعد ہم نے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں اس پر مختصر بحث کی لیکن چنتن شیویر میں ان مسائل پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔ اس لیے آج سے شروع ہونے والے کیمپ میں جو مسائل سامنے آئیں گے ان پر بھی بات کی جائے گی۔ پہلا مسئلہ آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ دوسرا تنوع، لسانی، مذہبی وغیرہ کا تحفظ کرنا ہے۔ تیسرا، فرقہ وارانہ پولرائزیشن میں اضافہ، چوتھا خود مختار اداروں اور ایجنسیوں کا تحفظ کرنا ہے۔ اور پانچواں موضوع قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ہے۔”

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا ’’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مودی جی پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتے۔ ہماری جمہوریت، آئین کو بچانا بہت ضروری ہے۔ یہ لوگ مخالفت کرنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ہمیں اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا ہوگا۔ مودی جی جھوٹ بولتے رہتے ہیں اور پھر پکڑے جانے پر کہتے ہیں کہ یہ انتخابی جملہ تھا! لوگ بیان بازی کو اہمیت دیتے ہیں اور ہماری قربانی، محنت کو اہمیت نہیں دیتے، یہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔ سنکلپ شیویر میں کئی موضوعات پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔ بنیادی طور پر نو موضوعات پر بات کی جائے گی۔ ان مضامین کو غور و فکر کے کیمپ میں رکھا جائے گا۔ تمام نمائندے جو کیمپ میں شریک ہوں گے ان موضوعات پر تفصیل سے بات کریں گے۔‘‘