کنگسٹن: متعدد شادیوں کا رواج رکھنے والا پراسرار امریکی فرقہ جس میں عورتوں کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا ہے

578

انتباہ: اس رپورٹ میں موجود معلومات چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

بلیکلن 16 سال کی تھیں جب 2020 میں ان کو اپنے کزن ٹریوس سے زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ کچھ ہی عرصے بعد حاملہ ہو چکی تھیں۔

ان کو اپنی زندگی سے متعلق کوئی فیصلہ خود کرنے کا اختیار نہیں رہا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف ’پاک کنگسٹن خون‘ کی افزودگی اور اپنے سے 11 سال بڑے خاوند کے احکامات کی تعمیل کرنا تھا۔

کبھی کبھار آدھی رات کو وہ گہری نیند سے بیدار ہوتیں تو معلوم ہوتا کہ ان کا شوہر سیکس کر رہا ہے تاہم وہ شکایت نہیں کر سکتیں تھیں۔ کنگسٹن فرقے میں مردانہ جنسی خواہشات کی تعمیل ضروری سمجھی جاتی تھی اور اسے ریپ نہیں مانا جاتا چاہے یہ عورت کی مرضی کے بغیر ہی کیوں نہ کیا جاتا ہو۔

لیکن جب بلیکلن نے دیکھا کہ ان کے شوہر نے ان کے بچے کو بھی جنسی کھلونا بنا لیا ہے تو انھوں نے فرار کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔

بلیکلن، جن کی اصل شناخت کو چھپایا گیا ہے، کی شادی کے وقت ان کے والد کی ایک ہی وقت میں چار بیویاں تھیں۔

ان کے والد اور سسر امریکی ریاست یوٹاہ کے سالٹ لیک سٹی شہر میں کنگسٹن فرقے کی قیادت کرنے والے ’سات برادران‘ میں شامل تھے۔ یہ مرمن چرچ کا ایک ایسا فرقہ ہے جس میں کثیرالازواجی اور خاندانی شادیوں کا رواج عام ہے۔

اس فرقے کے خلاف بلیکلن سمیت 10 افراد نے ستمبر میں مقدمہ دائر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کو خونی رشتوں سے زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کو بچپن سے ہی ایسے نظریات کا پرچار کیا گیا جن کے تحت ان کو جسمانی سزا دی جاتی اور جبری مشقت کروائی جاتی جس میں فرقے کی کمپنیوں میں ان سے بلا معاوضہ کام لیا جاتا تھا۔ انھوں نے فرقے پر ریاست کو دھوکہ دینے کا الزام بھی لگایا ہے، جسے فرقے میں ’حیوان کا خون بہانا‘ کہا جاتا ہے۔

کنگسٹن گروپ، جس کے ماننے والے اسے ’دی آرڈر‘ کے نام سے پکارتے ہیں، ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
کنگسٹن فرقے کی ابتدا

مرد ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتے ہیں لیکن عورت کو یہ اجازت نہیں۔ تاہم عورت کے لیے شادی کرنا لازمی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر سکے چاہے یہ اس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا مقصد فرقے کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ کسی عورت کا حمل ضائع ہونا گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی سزا دی جاتی ہے۔

فرقے کے خلاف مقدمہ درج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب کم عمری میں بچے پیدا ہو جائیں تو پھر عورتیں فرار نہیں ہو سکتیں۔

اس فرقے پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بچوں سے کمپنیوں میں جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔ ان کاروبار میں سٹور، سپر مارکیٹ، کھیت اور سکول شامل ہیں۔ ماضی میں اس فرقے کے پاس کانیں اور توانائی کی کمپنی بھی تھی جن پر دو سال قبل ہونے والے ایک مقدمے میں پانچ سو ملین ڈالر فراڈ کا الزام لگا۔فرقہ اندرونی طور پر اپنی کرنسی استعمال کرتا ہے اور اراکین کو ڈالر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

اس فرقے میں رازداری کی وجہ سے اس کے مجموعی اراکین کی تعداد نامعلوم ہے تاہم اندازوں کے مطابق اس کے اراکین کی تعداد پانچ ہزار سے 10 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ایسا بھی ہوا کہ کسی بچے کی پیدائش پر اس کے باپ کا نام سرٹیفیکیٹ پر موجود نہیں تھا اور رجسٹریشن کے وقت ماں نے جھوٹ بول دیا کہ اس کو معلوم نہیں کہ بچے کا باپ کون ہے یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ چھوڑ کر چلا گیا۔فرقے کے خلاف شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ عام سی بات ہے کہ فرقہ والدین کا نام بچوں کے سرٹیفیکیٹ پر نہیں لکھواتا تاکہ ابہام باقی رہے اور کم عمر شادیوں یا خونی رشتوں سے جنسی تعلق پر مجرمانہ سزا سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ یہ گروپ 25 سال سے قانون کی نظر میں رہا ہے اور ماضی میں اس کے کئی اراکین کو فراڈ، منی لانڈرنگ اور جنسی جرائم پر سزا سنائی جا چکی ہے (بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)