کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے از: شکیل رشید ( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )

394

ناانصافی کے اس دور میں ، جب بھی عدلیہ پر سے بھروسہ مکمل طور پر اٹھنے لگتا ہے ،کوئی نہ کوئی ایسا فیصلہ آجاتا ہے ، جو عدلیہ کے تئیں امید کی ایک جوت جلا دیتا ہے ۔ ’ آلٹ نیوز ‘ کے شریک بانی ، صحافی اور ’ فیکٹ چیکر ‘ محمد زبیر کو ، بدھ ۲۰، جولائی کے روز ، سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

انصاف کے متلاشیوں کے لیے یہ حکم ایک ڈھارس ہے ۔ اپنے حکم میں عدالتِ عظمیٰ نےکہا ہے کہ محمد زبیر کو آج بدھ ہی کی شام کے چھ بجے تک رہا کر دیا جائے ، اور وہ رہا ہو کر باہر آ بھی گئے ہیں ۔ جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ کا فیصلہ کئی معنوں میں اہم ہے ۔ بنچ نے ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم سبھی معاملوں میں عرضی دہندہ کو عبوری ضمانت دے رہے ہیں ، اسے غیر معینہ مدت تک حراست میں بنائے رکھنا مناسب نہیں ہے ، قانون کے طے شدہ اصول کے مطابق گرفتاری کے اختیار کو شاذ و نادر عمل میں لانا چاہیے ۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ زبیر کو مستقبل میں ٹوئٹ کرنے سے نہیں روک سکتی ۔’’ ایسے ہم کسی شہری کو نہیں روک سکتے ، عرضی دہندہ اگر کوئی غلطی کرے گا تو یقینی طور پرقانون کے تئیں جوابدہ ہوگا ۔‘‘

سپریم کورٹ نے دو اہم باتیں اور کہیں ، ایک تو یہ کہ اس معاملہ میں اگر آئندہ کوئی ایف آئی آر داخل کی گئی تو وہ بھی دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ہی اختیار میں ہوگی ، جسے یو پی کی تمام ایف آئی آر منتقل کی گئی ہیں ۔ دوسری بات سپریم کورٹ نے یہ کہی ، کہ یوپی میں محمد زبیر کے ٹوئٹس کی تفتیش کے لیے جو ’ ایس آئی ٹی ‘ قائم کی گئی ہے اسے ختم کیا جاتا ہے ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یو پی کی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد نے اپنی دلیلوں سے کوشش تو کی کہ عدالتِ عظمیٰ محمد زبیر کو ضمانت نہ دے مگر کوئی دلیل کام نہیں آئی ۔ اے اے جی نے یہ دلیل دی کہ ٹی وی پر نوپور شرما کے مباحثہ کے بعد محمد زبیر نے جو ٹوٗئٹ کیے تھے وہ جمعہ کی نماز کے بعد پمفلٹ بنا کر تقسیم کیے گیے ، یہ پمفلٹ اشتعال انگیز تھے ۔ گریما پرساد نے محمد زبیر کو صحافی ماننے سے بھی انکار کیا ، اور الزام عائد کیا کہ ’’ ٹوئٹس جس قدر اشتعال انگیز ہوں اتنا ہی زیادہ پیسہ ملتا ہے ۔‘‘ اے اے جی نےعدالت عظمیٰ میں باقاعدہ یہ الزام لگایا کہ محمد زبیر کو ٹوئٹس کے لیے دو کروڑ روپیے ملے ہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ نے ان کی کسی بھی دلیل کو قبول نہیں کیا ، اور گرفتاری کو ’’ بلا جواز ‘‘ قرار دے کر محمد زبیر کو ضمانت دے دی ۔ سپریم کورٹ کی اس بنچ کے دونوں ہی جسٹسوں نے جو فیصلہ دیا اس سےیہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ کسی بھی شخص کو بلا کسی جواز کے حراست میں رکھنے یا قید کرنے کے عمل کو قانون پسند نہیں کرتا ۔ اس فیصلے سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ قانون کو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ کسی ایک معاملے کے لیے مختلف جگہوں پر ایف آئی آر درج کروا کے کسی کو پریشان کیا جائے ۔ اس فیصلے نے یہ صاف کر دیا ہے کہ عدلیہ کو یہ احساس ہے کہ ملک میں ان دنوں ’ انتقام کی سیاست ‘ کی جا رہی ہے ، اور حکمرانوں پر نکتہ چینی و تنقید کرنے والے ’ نشانے ‘ پر ہیں ۔

حال کی چند گرفتاریاں ثبوت ہیں کہ حکمراں اور انتظامیہ ’ انتقام اور بدلے ‘ کے لیے قانون کو توڑ مروڑ رہی ہے ، جگہ جگہ سے مقدمے درج کرائے جاتے ہیں ، اور جیسے ہی کسی ایک معاملے میں ملزم کو ضمانت ملتی ہے ، اُسے دوسرے معاملہ میں گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ ضمانت نہ مل سکے ۔ اعظم خان کا معاملہ لے لیں ، بھینس کی چوری پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے ! خیر محمد زبیر کے معاملہ میں ’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ۔‘ لیکن ہنوز ایک بڑی تعداد میں لوگ برسوں سے ضمانت کے منتظر ہیں ۔ سنجیوبھٹ کو ضمانت مل جانی چاہیے ، لیکن نہیں مل رہی ہے ۔ حال ہی میں تیستا سیتلواڈ اور آر بی سری کمار کو گرفتار کیا گیا ہے ، یہ دونوں ہی گرفتاریاں ’ انتقامی ‘ ہی ہیں ، لیکن یہ بھی ضمانت نہیں پا سکے ہیں ۔ بھیما کورے گاؤں معاملہ کے ملزمین لمبے عرصے سے قید میں ہیں ، انہیں بھی ضمانت مل جانی چاہیے تھی ۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ان افراد کو بھی راحت دے ، مقدمے تو چلتے رہیں گے ۔

شکیل رشید ( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )