سرینگر: جموں وکشمیر میں دہشت پھیلانے کے لئے دہشت گردوں نے الگ طرح کے بم کا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ اسے اسٹک بم کہا جاتا ہے۔ اسٹک بم میں میگنیٹ لگا ہوتا ہے۔ ایسے میں انہیں چلتی ہوئی گاڑیوں میں میگنیٹ کے ذریعہ چپکا کر دھماکہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسٹک بم عام آئی ای ڈی ہوتے ہیں، جو مٹھی کے سائز سے بڑے نہیں ہوتے۔ انہیں میگنیٹ، چپکانے والے اشیا کے ذریعہ گاڑیوں کی سائڈ میں یا پھر فیول ٹینک کے پاس آسانی سے چپکایا جاسکتا ہے۔ اس طرح چھوٹے سے دھماکے کو بڑے دھماکے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔جموں وکشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھ دہشت گردوں کا نیا ہتھیار لگا ہے۔ اس بم میں میگنیٹ کا استعمال کرکے اسے کسی بھی گاڑی میں لگایا جاسکتا ہے۔ یہ وزن میں ہلکا اور پورٹیبل ہوتا ہے۔ چسپا کرنے کے بعد اسے ڈونیٹ کیا جاتا ہے، جس سے چسپا کرنے کے بعد اسے ڈونیٹ کیا جاتا ہے، جس سے چسپا کرنے والے کو خطرہ نہیں رہتا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں سیکورٹی اہلکاروں نے جموں وکشمیر کے الگ الگ علاقوں سے اسٹک بم ضبط کئے ہیں۔حالانکہ ابھی تک دہشت گرد اس کے استعمال میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، لیکن اس کی برآمدگی کے بعد سے سیکورٹی اہلکار زیادہ حیران ہوگئے ہیں۔ دہشت گردانہ حملے کے لئے اس سے پہلے اسٹک بم کا استعمال 13 فروری، 2012 کو اسرائیلی سفارت خانہ کی ایک انووا کار پر حملے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس حملے کو ایک بائیک سوار نے انجام دیا تھا۔ اس نے انووا کار کی پیچھے کی طرف سبب ہوئے دھماکہ خیز اشیا کو چسپا کردیا تھا۔ اس حملے میں اسرائیلی سفیر کی اہلیہ اور ڈرائیور بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور کار میں آگ لگ گئی تھی۔ سال 2010 اور 2012 میں تہران میں کچھ کو اسٹکی میگنٹک بم حملے کے ذریعہ ہدف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں