سری نگر، 26 جون (یو این آئی) جموں و کشمیر میں درجنوں مذہبی، سماجی، اصلاحی اور ملی تنظیموں پر مشتمل اتحاد ‘متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر’ نے یہاں جاری ایک بیان میں بزرگوں، ریشیوں، منیوں اور اولیائے کرام کی سرزمین پر مختلف نوعیت کی سماجی اور معاشرتی خرابیوں اور برائیوں میں آئے روز تشویشناک اضافے پرحد درجہ اضطراب اور فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کس قدر المناک اور تلخ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں سماجی بے راہ روی کے چلتے منشیات کے فروغ، گھریلوں تشدد، خانگی تنازعے، طلاق کی شرح میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر خود کشی کا بڑھتا ہوا گراف ہر باشعور انسان اور ذی حس طبقہ کے لئے انتہائی درد و کرب کا باعث ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں مسلسل نامساعد حالات اور دیگر کئی بنیادی اسباب اور عوامل شامل ہیں جن کے سبب نہ صرف نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر سو فیصد صحت مند نہیں ہیں بلکہ بچے، بزرگ اور خواتین بھی اعصابی اضمحلال اور ذہنی تناﺅ کے شکار ہیں اور اس کی وجہ سے کئی لوگ خودکشی کے ریعے اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس ضمن میں خودکشی کے بنیادی اسباب اور عوامل کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے ان کے انسداد کے لئے کارگر اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق پرتناﺅ صورتحال اور تشدد آمیز واقعات نے کشمیری سماج کے تانے بانے کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشی کے واقعات اور نشہ آور اشیا کی استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے شاید ہی کوئی دن ایسا ہوگا جب مقامی اخبارات اور میڈیا میں خودکشی اور منشیات کے استعمال سے متعلق افسوسناک خبریں شائع نہ ہوتی ہوں۔ چنانچہ روزانہ کم از کم 3 سے 4 افراد خودکشی کر رہے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مادر وطن کشمیر میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان ایک انتہائی سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان، خواتین اور کمسن بچے بھی زندگی کی انمول نعمت کو ترک کر کے موت کو گلے لگا رہے ہیں۔
بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ دین اسلام میں خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا انتہائی سنگین جرم، شدید گناہ اور باعث عذاب ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مقدسہ میں اس کی سختی کے ساتھ ممانعت اور مذمت کی گئی کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت اور موت و حیات کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حالات کتنے ہی غیر معمولی اور مایوس کن کیوں نہ ہوں دین اسلام اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ حوصلہ، ہمت اور صبر و استقامت کے ہتھیار سے ان کے مقابلے کی تلقین کرتا ہے۔ انسان غلطی کا پتلاہے۔ ا س سے ہر طرح کی غلطی اور خطا سرزد ہو سکتی ہے تاہم اللہ تعالیٰ کی ذات رحیم و کریم اور تواب ہے اور 100 ماﺅں کی محبت زیادہ اس کی محبت اور شفقت ہے اس لئے مایوسی قنوطیت کے دلدل سے باہر نکل کر اسی کی رحمت و کرم کا سہارا لینا چاہئے اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ زندگی جدوجہد اور مشقت عمل سے عبارت ہے اور ناکامی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مجلس نے موجودہ سنگین حالات کے تناظر میں تمام دینی اور اصلاحی تنظیموں، علمائے کرام، واعظین، خطیبوں، ائمہ حضرات، اساتذہ، والدین، باشعور شہری اور سول سوسائٹی کے ارکان سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہوجائیں اور عوام خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین میں ایک ایسی بیداری کی ہمہ گیر مہم چلائیں جس سے کشمیری معاشرہ کو درپیش ان سنگین نوعیت کے مسائل سے چھٹکارا اور ان کے انسداد کی راہیں ہموار ہوں۔
مجلس نے خبردار کیا کہ اگر وقت رہتے ہی ان سماجی برائیوں اور لعنتوں کے خلاف انفرادی اور اجتماعی طور پر کوششیں بروئے کار نہیں لائی گئیں تو حالات مزید ابتر، قابو سے باہر اور سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔