کشمیر: میڈیا اداروں کی انٹرنیٹ خدمات بحالی کے بعد دوبارہ معطل

0 3

سری نگر: وادی کشمیر میں اگرچہ نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرس کی طرف سے مختلف نجی دفاتر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات بحال کی جارہی ہیں تاہم میڈیا اداروں میں، مطلوب حلف نامہ جمع کرنے کے باوصف بھی، ان خدمات کو کچھ گھنٹوں کی بحالی کے بعد ایک بار پھر منقطع کیا گیا۔

ادھر ایک نجی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ارسال شدہ اُس فہرست جس میں ان اداروں کے نام درج ہیں جنہیں انٹرنیٹ سروس بحال کرنی ہے، میں میڈیا ادارے شامل نہیں ہیں جس کے پیش نظر میڈیا اداروں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات ایک بار پھر منقطع کرنا پڑیں۔

بتادیں کہ انتظامیہ نے وادی میں حالیہ دنوں ٹو جی رفتار والی انٹرنیٹ خدمات اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کے احکامات جاری کئے۔ تاہم برڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کو ایک حلف نامہ پیش کرنے کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے۔ صارفین کو حلف نامے میں یہ بات لکھ کر دینا پڑتا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو کسی بھی وقت مواد تک رسائی دی جائے گی اور وی پی این کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ایک نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے یو این آئی اردو کو معلوم ہوا کہ حکومت کی طرف سے ارسال شدہ اس فہرست جس میں ان اداروں کے نام درج ہیں جنہیں انٹرنیٹ سروس بحال کرنی ہے، میں میڈیا ادارے شامل نہیں ہیں جس کے پیش نظر میڈیا اداروں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات ایک بار پھر منقطع کرنا پڑیں۔

انٹرنیٹ فراہم کرنے والی اس کمپنی کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ارسال شدہ فہرست میں میڈیا ادارے درج نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان اداروں میں حکومت کی طرف سے احکامات حاصل ہونے تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن اداروں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بحال کی جاتی ہے ان کی فہرست ہر شام سیکورٹی ایجنسیوں کو ارسال کی جاتی ہے۔

ادھر صحافیوں کا کہنا ہے کہ وادی میں فی الوقت صرف میڈیا ادارے ہی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں جبکہ باقی ماندہ نجی ادارے اس سہولیت سے بہرہ ور ہورہے ہیں۔ بتادیں کہ نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرس نے گزشتہ روز سری نگر میں قائم میڈیا اداروں میں محدود و مشروط انٹرنیٹ خدمات بحال کرنا شروع کردی تھیں۔ تاہم جن میڈیا اداروں کی انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی تھیں انہوں نے لکھ کر دیا تھا ان کی جانب سے انٹرنیٹ کا غلط استعمال نہیں ہوگا نیز ضرورت پڑنے پر سیکورٹی ایجنسیوں کو ادارے کے تمام مواد تک رسائی دی جائے گی۔

جموں وکشمیر حکومت کے محکمہ داخلہ نے 25 جنوری کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں وادی میں ٹو جی موبائیل انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ خدمات کی بحالی کا اعلان کیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ صارفین کو وائٹ لسٹڈ ویب سائٹس تک ہی رسائی ممکن ہوگی اور وادی میں سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر پابندی مسلسل عائد رہے گی۔

وادی میں انٹرنیٹ خدمات پر جاری پابندی سے جہاں تجارت کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا وہیں تعلیمی شعبے کو بھی نا قابل تلافی نقصان کا سامنا ہے۔ براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی کے باعث صحافیوں کو گوناگوں مشکلات و مسائل درپیش ہیں۔ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ کام کاج کی انجام دہی کے لئے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے ایک چھوٹے کمرے میں قائم میڈیا سینٹر کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو