بھوپال: مدھیہ پردیش کی حکومت انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر نیاز خان کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرے گی، جو فلم ‘دی کشمیر فائلز’ کے بہانے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے مبینہ مظالم سے متعلق اپنے ٹوئٹس کے لیے تنازع میں رہے ہیں‘۔آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کہا کہ ‘میں نے نیاز خان کے بہت سے ٹوئٹس دیکھے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ حد سے تجاوز کر رہے ہیں اور حکام کی لکشمن ریکھا کی حد پار کررہے ہیں۔ حکومت انہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرے گی اور ان سے جواب طلب کرے گی۔

خیال رہے نیاز خان گزشتہ کچھ دنوں سے اپنے ٹوئٹس کو لے کر خبروں میں ہیں۔ دو دن پہلے انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘دی کشمیر فائلز’ کی کمائی تقریباً 150 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر کو اس فلم سے حاصل ہونے والی رقم کشمیری پنڈتوں کے بچوں کی بحالی کے لیے استعمال کرنی چاہیے۔

ان کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے فلمساز اگنی ہوتری نے کہا کہ نیاز خان کو ان سے ملاقات کا وقت دینا چاہئے تاکہ وہ ملاقات کر سکیں اور بات چیت کر سکیں کہ وہ کشمیری پنڈتوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں اور نیاز خان اپنی کتابوں کی رائلٹی سے اور بحیثیت انتظامی آفیسر کس طرح مدد کرسکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی نیاز خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ فلم بنانے والوں کو ملک بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر بھی فلم بنانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ مختلف مواقع پر مسلمانوں کی نسل کشی پر کتاب لکھنے کی سوچ رہے ہیں، تاکہ کوئی پروڈیوسر اپنی کتاب پر کشمیر فائلز جیسی فلم بنا کر اقلیتوں کے درد کو سب کے سامنے لا سکے۔