سنگاپور نے سنہ 1990 کی دہائی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہندوؤں کی نقل مکانی کے موضوع پر بنائی گئی انڈین فلم کی نمائش پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم میں انڈیا کے زیرِ انتظام مسلم اکثریتی کشمیر میں جاری تنازع میں مسلمانوں کی جانبدارانہ اور اشتعال انگیز تصویر کشی کی وجہ سے اسے نمائش کے لیے سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔حکام کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تصویر کشی سے سنگاپور جیسے کثیرالثقافتی اور کثیر المذہبی ملک میں رہنے والی مختلف کمیونٹیز میں دشمنی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور مذہبی رواداری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔خیال رہے کہ مارچ 2022 میں ریلیز ہونے والی ’کشمیر فائلز‘ جہاں باکس آفس پر ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی ہے وہیں اس کے متنازع موضوع نے انڈیا میں ایک طوفان بھی برپا کیا ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اِس فلم کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔فلم کی کہانی ایک یونیورسٹی طالبعلم کی ہے جسے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے کشمیری ہندو والدین کو مسلمان عسکریت پسندوں نے قتل کیا تھا۔ اس طالبعلم کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے دادا کی جانب سے ایک حادثے میں اُن (والدین) کی ہلاکت کی سُنائی جانے والی کہانی جھوٹی تھی۔انڈین فلم انڈسٹری کے روایتی فلم نقادوں کی جانب سے اس فلم کے متعلق ملے جلے تجزیے سامنے آئے اور ایک سے زیادہ ناقدین نے اس کو ’جذبات سے کھیلنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔لیکن فلم کے ریلیز ہوتے ہی اس نے سوشل میڈیا پر بھی ایک سخت اور گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

اس فلم کے حامی کہتے ہیں کہ اس میں کشمیر کی نظر انداز کی جانے والی خونی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فلم میں حقائق کو ’غیر ذمہ داری‘ سے اور ’اسلاموفوبیا‘ کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور اُن کی حکومت کے اہم وزرا نے اس فلم کی تعریف کی ہے۔ متعدد ایسی ریاستوں، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، میں اس فلم کو نمائش کے لیے پیش کرنے پر عائد ہونے والے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس اہلکاروں کو فلم دیکھنے کے لیے ایک دن کی چھٹی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔تو ایک چھوٹے بجٹ کی اس فلم نے انڈین معاشرے میں لوگوں کو اتنا منقسم کیسے کر دیا ہے؟فلم میں کشیمر کی تاریخ اور پاکستانی سرحد کے قریب کے علاقے میں برسوں سے شورش زدہ علاقوں پر بات کی گئی ہے جو بہت عرصے سے انڈیا کے لیے ایک حساس اور متنازع موضوع رہا ہے۔کشمیر ایک مسلم اکثریتی وادی ہے اور وہاں سنہ 1980 کی دہائی سے انڈیا کی حکمرانی کے خلاف مسلح بغاوت جاری ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق 1980 کی دہائی کے اواخر میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اونچی ذات کے کشمیری ہندوؤں اور پنڈتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔اس دوران بہت سے ہندو پنڈت مارے گئے اور چند اندازوں کے مطابق ہزاروں افراد کشمیر سے نقل مکانی کر کے انڈیا کے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ان واقعات کے بعد انڈیا کی وفاقی حکومت نے کشمیر میں فوج کو تعینات کیا اور انھیں لوگوں کو گرفتار کرنے اور ان سے تفتیش کرنے کے لامحدود اختیارات دیے۔ اور ان برسوں کے دوران انڈین فوج پر مقامی افراد کے ساتھ ظلم و تشدد کرنے کے الزام عائد ہوتے رہے۔فوج نے ان الزامات کی تردید کی لیکن خطے میں متواتر انڈین حکومت کے خلاف بڑے اور مشتعل مظاہرے دیکھنے میں آئے جن کا نتیجہ شہریوں کی ہلاکت کی صورت میں سامنے آتا رہا۔کشمیر کی عوام اور انڈین حکومت کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر اس وقت زیادہ تناؤ دیکھا گیا تھا جب مودی حکومت نے سنہ 2019 میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا۔

قوم پرست جماعت بی جے پی نے اس متنازع خطے میں کشمیری پنڈتوں کے وادی سے نکالے جانے کے معاملے کو انتخابی مہم کے دوران استعمال کیا تھا۔ اس جماعت نے ہندوؤں کے وادی سے نکالے جانے کے معاملے پر اپنی خاص توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی حریف جماعت کانگرس، جو اس وقت اقتدار میں تھی، پر الزام عائد کیا کہ اس نے ہندو پنڈتوں کی حالت زار کو نظر انداز کیا تھا۔تاہم ہندو پنڈتوں کی اس برادری کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ان کی وادی میں دوبارہ آبادکاری کے لیے کوئی ٹھوس اور جامع اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔صحافی اور مصنف راہل پنڈتا کے مطابق کشمیر کے پُرتشدد ماضی پر متعدد کتابیں لکھی گئیں اور فلمیں بنیں لیکن ان میں سے بہت کم ایسی ہیں جس میں وادی سے ہندو پنڈتوں کی نقل مکانی اور اس کے محرکات پر توجہ مرکوز کی ہو۔وہ کہتے ہیں کہ فلم کشمیر فائلز پر اس قدر شدید ردعمل آنے کی وجہ یہ ہے کہ پنڈتوں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ان کی کہانی کو دبایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس فلم سے انھیں ایک جذباتی ڈھارس کا احساس ہو رہا ہے۔راہل پنڈتا جن کی کتاب ’ایک گمشدہ گھر کی یادداشت‘ اُن کے کم سنی میں سرینگر چھوڑنے کے تجربے پر مبنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ ملک میں نوجوان نسل کشمیر کی تاریخ کے اس باب کو کیسے یاد کرتی ہے۔‘وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میری کتاب کو شائع ہوئے دس برس ہو چکے ہیں اور اب بھی مجھے روزانہ انڈیا بھر سے تین چار ای میلز یا کبھی کبھار انڈیا کے باہر سے بھی لوگوں کے پیغامات ملتے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اس واقعے کی شدت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔لیکن دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ انڈیا کی آج کی تاریخ میں ایسے بہت سے باب ہیں جو ’نچلی ذات پر تشدد‘ یا شمال مشرقی ریاستوں جہاں ماؤ باغیوں کی بغاوت رہی ہے، وہاں انڈین فوج پر لگنے والے الزامات جیسے واقعات کے متعلق نہیں بتایا گیا ہے۔سنجے کاک خود ایک کشمیری پنڈت ہیں جو دستاویزی فلمیں بناتے ہیں۔ وہ اس خطے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’میں تاریخ کے اس باب کے مسلسل گریز سے تھوڑا سا حیران ہوں کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو کبھی نہیں بتائی گئی۔ ایسا نہیں کہ بالی وڈ کو پتا نہیں لیکن بالی وڈ ایسی کہانیاں نہیں بتاتا۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ’آخری مرتبہ کب بالی وڈ نے ہمیں سنہ 1984 میں دہلی کے ہنگاموں یا سنہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے متعلق کوئی کہانی بتائی تھی؟ ملک میں ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں جنھیں مرکزی میڈیا میں کبھی توجہ نہیں ملی۔‘

’اس فلم کے متعلق تنازع ہندو پنڈتوں کے وادی سے نقل مکانی کی تاریخ پر نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی اس سے روگردانی نہیں کرتا لیکن اس تنازع اس پر ہے جیسے اس کہانی کو بیان کیا گیا ہے اور جس نے بتایا ہے۔‘اس فلم نے کشمیری پنڈتوں میں ہلچل تو پیدا کی ہے لیکن اس فلم کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس میں اس پچیدہ تاریخ کی سنگینی کو صحیح طرح اجاگر نہیں کیا گیا۔ بعض افراد نے فلم میں اداکاروں کی پرفارمنس کو سراہا تو چند نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کی رسوائی یا بدنامی نہیں ہوئی۔فلم نقادوں کے ساتھ ساتھ اس فلم کے ناظرین بھی منقسم ہیں۔ کچھ کو یہ جذباتی طور پر اچھی لگی اور انھیں امید ہے کہ یہ ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد دے گی تو کچھ کو کشمیری مسلمانوں کی روایتی اور قدامت پسند تصویر کشی اور فلم کے پیغام پر پریشانی لاحق ہے۔چند افراد نے فلم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ اس وقت تک تنازعات کو حل نہیں کر سکتے جب تک آپ کو اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تکلیف کا اندازہ نہ ہو۔‘لیکن اس فلم کی حمایت میں سب سے زیادہ حکمران جماعت بی جے پی کے وزرا کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔بچوں اور خواتین کی بہبود کی وزیر سمرتی ایرانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لوگوں سے اس فلم کو دیکھنے پر زور دیا۔ اور لکھا کہ ’اس فلم کو دیکھیں تاکہ بے گناہ افراد کے خون میں ڈوبی تاریخ خود کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔‘اس فلم کو بنانے والی ٹیم کی وزیر اعظم مودی سے گذشتہ ہفتے ملاقات بھی ہوئی جبکہ اکشے کمار اور کنگنا رناوٹ جیسے بڑے بالی وڈ ستاروں نے اس فلم کی حمایت میں ٹویٹ بھی کیا ہے۔ایک سوال کہ کیا یہ فلم صرف بی جے پی کے دور حکومت میں ہی بن سکتی تھی، اس فلم کے مرکزی کردار نبھانے والے اداکار انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ ’یہ درست ہے ہر فلم کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے۔‘اس فلم کے ہدایت کار اگنی ہوتری، جنھیں خود بھی بی جے پی کے حامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، پر اس فلم میں چند حقائق میں غلطیوں کا الزام ہے۔ملک کی ایک عدالت نے انھیں ایک ایئرفورس سکواڈرن لیڈر کی اور اُن کی موت کی تصویر کشی کرنے والے مناظر کو شامل کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس شخص کی بیوی کی جانب سے یہ دعویٰ دائر کرنے کے بعد دیا کہ ان کے خاوند سے متعلق تصویر کشی غلط حقائق پر مبنی ہے اور اس میں اُن کی توہین کی گئی ہے۔اس سے قبل بھی اگنی ہوتری کی گذشتہ فلم ’دی تاشقند فائلز‘ جو انڈیا کے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی موت کی مبینہ سازش پر مبنی تھی، اس پر بھی قیاس آرائیوں کو حقائق بنا کر پیش کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شاستری کے پوتے نے اگنی ہوتری کو ایک قانونی نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’اس فلم میں بلاجواز اور غیر ضروری تنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔‘

اگنی ہوتری نے اپنی فلم کشمیر فائلز کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ فلم کسی ہندو یا مسلم کے بارے میں نہیں ہے جیسا لوگ سمجھ رہے ہیں۔‘ایک فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم ’آلٹ نیوز‘ کے شریک بانی محمد زبیر نے فلم دیکھنے والے افراد کی مختلف ویڈیوز کو شیئر کیا جس میں وہ فلم دیکھنے کے دوران مسلم مخالف نعرے لگا رہے تھے۔اس فلم پر ردعمل سنہ 2020 میں آنے والی فلم ’شکارا‘ کے بالکل برعکس ہے۔ اس فلم کے شریک مصنف راہل پنڈتا تھے اور وہ بھی تاریخ کے اسی باب کے متعلق روشنی ڈالتی تھی۔ اس وقت اس فلم کے ردعمل میں دائیں جماعت کی ہندوؤں نے فلم بنانے والوں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔پنڈتا کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں لوگ تمام حساسیت سے ہٹ کر زیادہ سخت مزاج فلم دیکھنا چاہتے تھے، ہم نے ایسا نہیں کیا تھا۔‘سنجے کاک کا کہنا ہے کہ ’اس فلم نے وہی دکھایا ہے جو دائیں جماعت کے ہندو دکھنا چاہتے ہیں۔ شکارا اس معیار پر پورا نہیں اتری تھی اس لیے اس پر تنقید کی گئی۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے دائیں بازو کا پورا نظام اسے دنیا میں پھیلانے کے لیے کام کر رہا ہے۔‘راہل پنڈتا کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر طرح کی فلم کی گنجائش ہے جبکہ سنجے اس سے اتفاق نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ بات طے ہے کہ یہ حقیقت ہے لیکن آپ کشمیری پنڈتوں کی کہانی کشمیر کے تیس سالہ دور کی کہانی بیان کیے بنا نہیں بتا سکتے۔ اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بالی وڈ میں کسی نے اس سے پہلے یہ کہانی نہیں بتائی۔ کیونکہ وہاں اس طرح کی پیچیدہ کہانی بتانے کی گنجائش نہیں ہے۔'(بہ شکریہ بی بی سی اردو)