Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

کشمیر: تین سال پرانے مقدمے میں مہلوک جنگجو کی والدہ گرفتار

IMG_20190630_195052.JPG

gettyimages-1188242448-640x640سری نگر، 28 جون (یو این آئی) جموں و کشمیر پولیس نے جنوبی ضلع کولگام کے رامپورہ کیموہ میں حزب المجاہدین کے مہلوک جنگجو توصیف احمد شیخ کی والدہ کو ایک تین سال پرانے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔پولیس نے ان پر اپنے جنگجو بیٹے، جنہیں 6 مئی 2018 کو کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیع بٹ سمیت دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ جنوبی ضلع شوپیاں میں ہلاک کیا گیا، کے ساتھ ایک تصویر میں اے کے 47 تھامے نظر آنے، کم از کم دو نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں بھرتی کرانے اور جنگجوئوں و جنگجو تنظیموں کو اسلحہ و گولہ بارود، کمیونی کیشن و ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کی ایک ٹیم رواں ماہ کی 20 تاریخ کو ضلع کولگام کے رامپورہ کیموہ پہنچی جہاں اس نے مہلوک جنگجو توصیف احمد کی والدہ نسیمہ بانو زوجہ عبدالسلام کو حراست میں لے لیا۔

سری نگر، 28 جون (یو این آئی) جموں و کشمیر پولیس نے جنوبی ضلع کولگام کے رامپورہ کیموہ میں حزب المجاہدین کے مہلوک جنگجو توصیف احمد شیخ کی والدہ کو ایک تین سال پرانے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔پولیس نے ان پر اپنے جنگجو بیٹے، جنہیں 6 مئی 2018 کو کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیع بٹ سمیت دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ جنوبی ضلع شوپیاں میں ہلاک کیا گیا، کے ساتھ ایک تصویر میں اے کے 47 تھامے نظر آنے، کم از کم دو نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں بھرتی کرانے اور جنگجوئوں و جنگجو تنظیموں کو اسلحہ و گولہ بارود، کمیونی کیشن و ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کی ایک ٹیم رواں ماہ کی 20 تاریخ کو ضلع کولگام کے رامپورہ کیموہ پہنچی جہاں اس نے مہلوک جنگجو توصیف احمد کی والدہ نسیمہ بانو زوجہ عبدالسلام کو حراست میں لے لیا۔


مذکورہ رپورٹ میں ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پولیس گرفتار شدہ خاتون کی بیٹی، جو چھاپے کے وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوئی، کی تلاش میں ہے۔نسیمہ بانو 2015 سے سرگرم جنگجو عباس شیخ کی بہن ہیں۔کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے حوالے سے کہا گیا: ‘جموں وکشمیر پولیس بغیر شواہد کے کسی بھی جنگجو کی فیملی کو نشانہ نہیں بناتی ہے۔ سرگرم جنگجو عباس شیخ کی بہن اور مہلوک جنگجو توصیف کی والدہ نسیمہ بانو کو آیف آئی آر 30 آف 2018 کے سلسلے میں 20 جون 2020 کو گرفتار کیا گیا۔ یہ خاتون جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت کے حالیہ واقعات میں بھی ملوث ہے’۔پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق 2018 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کے تحت درج کئے گئے ایک مقدمے کے سلسلے میں نسیمہ بانو زوجہ عبدالسلام شیخ ساکنہ رامپورہ کیموہ کو رواں ماہ کی 20 تاریخ کو گرفتار کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کی گرفتاری قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور گرفتار شدہ خاتون کو زنانہ پولیس تھانہ اننت ناگ میں مقید رکھا گیا ہے۔

پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق 2018 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کے تحت درج کئے گئے ایک مقدمے کے سلسلے میں نسیمہ بانو زوجہ عبدالسلام شیخ ساکنہ رامپورہ کیموہ کو رواں ماہ کی 20 تاریخ کو گرفتار کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کی گرفتاری قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور گرفتار شدہ خاتون کو زنانہ پولیس تھانہ اننت ناگ میں مقید رکھا گیا ہے۔


پولیس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرفتارہ شدہ خاتون سنگین فوجداری کیس میں ملوث ہے۔اس میں کہا گیا ہے: ‘گرفتار شدہ خاتون کی تصویر، جس میں اسے اپنے بیٹے جو اُس وقت سرگرم جنگجو تھا کے ساتھ خودکار ہتھیار تھامے ہوئے دیکھا جاسکا ہے، بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ تصویر اس خاتون کی مجرمانہ حرکتوں کی محض ایک شروعات ہے۔ یہ خاتون کم از کم دو نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت کرانے، جنگجوئوں اور جنگجو تنظیموں کو کمیونی کیشن اور ٹرانسپورٹ مہیا کرنے میں بھی ملوث ہے’۔
پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خاتون کا عورت ہونا یا ایک مہلوک جنگجو کی والدہ ہونا اسے گرفتاری سے مستثنی قرار نہیں دیتا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتاری کو چیلنج کرنے کے خواہاں افراد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔
پولیس نے انتباہ کیا ہے کہ اس معاملے کو لیکر لوگوں کو بھڑکانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے: ‘سوشل میڈیا پر کئی تحریریں پوسٹ کی گئی ہیں جن میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ جو کوئی لوگوں کو بھڑکانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی’۔

بیان میں کہا گیا ہے: ‘سوشل میڈیا پر کئی تحریریں پوسٹ کی گئی ہیں جن میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ جو کوئی لوگوں کو بھڑکانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی’۔