خرد نے کہہ بھي ديا ‘لاالہ’ تو کيا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھي نہيں

کشمیر میں ایک بار پھر انکاؤنٹر ہورہے ہیں، اب کی بار صفِ اندوہ حیدر پورہ میں بچھ رہی ہے، بچے اپنے باپ کے بزرگ اپنی جوان اولادوں کے، اور جوان لڑکیاں اپنے بھائیوں کے خونچکاں جنازوں پر فلک شگاف آہ و فغاں برپا کر رہےہیں، گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے، حیدرپورہ میں جن کا انکاؤنٹر کیاگیا انہیں سیکوریٹی فورسز نے عسکریت پسند / militant قرار دیا ہے اور ہر بار کی طرح ان کے اعزاء و اقارب اور دیگر پڑوسی اس الزام کو سختی سے مسترد کررہےہیں، ایسے ہزاروں کشمیری گھر اجڑ چکے ہیں ہزاروں کشمیری بچے ایسے ہی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، ہزاروں ماؤں کی گودیں سنسان ہوتی ہیں

لیکن وہ لوگ جو مشہور اداکاروں کی موت پر دماغی اور نفسیاتی مرض سے انسانیت کو بچانے کے لیے فکرمند ہوجاتے ہیں ان کا یہ جذبہ کشمیر کے لیے نہیں تڑپتا جہاں پچاسوں لاکھ سے زائد مسلمانوں کی آبادی ہر چند دنوں میں اپنوں کے کربناک غم سے گزرتی ہے۔

جو لوگ نوجوانوں میں انتہاپسندی Extremism کا رونا روتے ہوئے نوجوانوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں وہ انتہاپسندی پھیلانے والے ظالمانہ محرکات کے خلاف قدم نہیں اٹھاتے

جو لوگ بچوں کے حقوق پر ڈکاریں بھر بھر کے سیمینار کرتے ہیں وہ کشمیری بچوں کو ان کے امی، ابو، اور دادا دادی کی خون سے لت پت لاشیں تھمانے پر سانس بھی نہیں لیتے

جو لوگ عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نام پر اسلام کو نشانہ بناتے ہوئے عورت کو ننگا کرتے ہیں جو لوگ ایک ملالہ زئی کو لے کر دنیا بھر میں مسلم لڑکیوں کے تعلیمی حقوق کی متعصب تجارت کرتے ہیں
یہ سب گونگے بہرے اور اندھے ہوجاتے ہیں جب مظلومیت کے کٹہرے میں کشمیری عورتیں ہوتی ہیں, جب ان کی چیخیں بلند ہوتی ہیں تو یہ بہرے شیطان بن جاتےہیں

یہ درحقیقت آج کی دنیا پرقابض طاقتوں کا اسلام دشمن چہرہ ہے، یہ دنیا پر غالب پالیسیوں میں چھپی ہوئی متعصبانہ خباثت ہے، آج کی دنیا پر چھائے ہوئے لوگ جن کی رائے سازی سے مرعوب ہوکر اسلامی نام والے بھی انہی کی چکاچوند میں چمکنے کی خواہش رکھتےہیں وہ لوگ اسلامی نام والوں کو اسلامیت سے بے غیرت، مسلمانی اجتماعیت سے بےحس، اور ان کے قلب و نگاہ کے قبلہ کو کعبہ و قرآن سے پھیر کر صرف نیشن ازم اور اقوام متحده کی چوکھٹ پر سجدہ ریز کراتے ہیں، قلب و نگاہ کا یہ انحراف ہی درحقیقت امت پنے کے برخلاف نحوست اور ذلت طاری کرتا ہے_

برسہابرس سے جو بدترین بےحسی کشمیری کاز سے مسلمانوں نے برتی ہے آج ویسی ہی بدتر صورتحال سے وہ جابجا ہمکنار ہورہےہیں لیکن انہیں ابھی بھی کشمیر کا درد سمجھ نہیں آتا

کچھ لوگوں نے نعرہ لگایا تھا کہ، 370 ہٹنے کےبعد کشمیر میں امن قائم ہوگا، اس بنیاد پر انہوں نے مودی اور امیت شاہ کا ساتھ بھی دیا تھا، مجھے دکھائیے وہ امن کہاں قائم ہوا ہے؟ اور کتنے عام مسلمانوں کے جنازے اٹھا کر وہ ” امن ” چین کی کرسی پائےگا؟ عسکریت اور انتہاپسندانہ علیحدگی پسندی کے خلاف ہم بھی ہیں لیکن ہرکچھ دنوں میں عام کشمیریوں کی لاشیں بچھا کر اپنی بہنوں کو موت پر سر پٹکتے ہم مزید نہیں دیکھ سکتے، کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ اب تو 370 بھی ہٹ گیا اب آخر کب تھمے گا کشمیر میں ماتم کا یہ اندوہناک سلسلہ؟؟ آپ کیسے چین کی نیند سوجاتے ہیں جبکہ آپ کے پڑوس میں ہی آپ کی ماں بہنوں کی آہ و فغاں فلک چیر دیتی ہیں ! _

کشمیر میں پائے جانے والے رجحانات اور سیاسی موقف سے یقینًا اتفاق اور اختلاف کی گنجائشیں ہیں لیکن جائزہ لیجیے کہ کشمیریوں پر ہونے والے روح فرسا اور دلدوز مظالم پر آج تک انسانی بنیادوں پر ہی سہی کتنے ٹھوس اقدامات کیے گئے؟ اور کشمیر میں جب ہم کھلے طورپر militancy کی مخالفت کرتے ہیں تو سیکورٹی فورسز کے لوگوں کی طرف سے عام کشمیریوں پر ظلم کے خلاف سخت آواز کیوں نہیں اٹھا سکتے؟ جب ہم کشمیر کو اپنے ملک کا حصہ مانتے ہیں تو آخر ان کے درد کا درماں کیوں نہیں بنتے؟ ایک عجیب ماحول بنایا گیا ہے، ملک کے کسی بھی کونے میں ہم پولیس اور ایجنسیوں کے مظالم پر آواز اٹھا سکتےہیں لیکن ایسا ہی ظلم کشمیر میں ہو تو اس کے خلاف انصاف کی آواز بلند کرنا تحفظات کا شکار اور مصلحتی چادر میں لپٹ جاتا ہے، اور پھر یہ دعویٰ بھی ہم نے ہی کرناہے کہ کشمیر ہمارے ملک کا اٹوٹ حصہ ہے، یقینًا ہے، لیکن ہمارا یہ عمل کیا کہتا ہے؟ *ہماری پولیس اور ایجنسیوں نے آخر ايسے کتنے نیک کام کیے ہیں جس کی بناء پر آئے دن وہ کشمیر میں یا ملک کے کسی بھی حصے میں مسلم نوجوانوں کو کسٹڈی یا انکاؤنٹر میں مار ڈالتے ہیں اور ہم محض ان کے دعوؤں پر یقین کر بیٹھ جائیں؟* اپنے ہی پڑوس میں آباد لاکھوں کشمیری بھائیوں کے درد سے آنکھیں موند لینا یہ کس قسم کی بزدلی اور الله کی ناراضگی مول لینے والی صفات ہیں؟ لیکن ظاہر بات ہے کہ کشمیر میں ظلم کرنے والی ہماری ملک کی ایجنسیاں اور پولیس ہے اور ان کے متعلق حق گوئی کے واسطے وصفِ درویشی چاہیے اور حکمرانوں کی چوکھٹ پر کاسہء گدائی لیے قطار میں کھڑے ہونے والوں میں یہ جرات رندانہ پیدا نہیں ہوسکتی
کاش کہ وہ ایمانی زندگی میں عزت کا راز سمجھ سکیں کہ:
خرد نے کہہ بھي ديا ‘لاالہ’ تو کيا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھي نہيں

*سمیع اللّٰہ خان*
16 نومبر ۲۰۲۱
ksamikhann@gmail.com

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔