سید خرم رضا

جنگ بندی پر خوشی کا اظہار تو کرنا بنتا ہی ہے۔ جنگ اذیت اور موت کا دوسرا نام ہے اس لئے اس کا بند ہونا انسانیت اور جنگ میں ملوث افراد اور قوموں کے لئے ایک راحت کی خبر ہے۔ جیسے بہت سے مفکر کہہ چکے ہیں کہ جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کی شکست ہوتی ہے۔ خو د کو مہذب کہنے والے ہم لوگ اپنی انا، اپنی حکمرانی، اپنی طاقت کے اظہار کے لئے متعدد لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اس عمل سےکتنے ہی بچے یتیم ہو جائیں گے، کتنے ہی لوگوں کی قیمتی جانیں چلی جائیں گی، کتنے ہی لوگ بے گھر ہو جائیں گے، کتنے ہی لوگ معذور اور بے روزگار ہو جائیں گے۔ ان سب کی لاشوں اور بے سمت زندگیوں کے ڈھیر پر ہم اپنی طاقت اور جیت کا جشن منائیں گے۔ لعنت ہے ایسی جیت اور ایسی طاقت پر۔

گیارہ دن تک بموں اور راکٹوں کی خونی ہولی کھیلنے کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے دو دھڑے حماس اور اسلامک جہاد جو اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب دے رہے تھے، وہ مصر کی براہ راست اور امریکہ کی بالواسطہ کوششوں کی وجہ سے جنگ بندی پر رضامند ہو گئے۔ جنگ بندی کی خبر جیسے ہی فلسطین میں پھیلی ویسے ہی غزہ کے لوگوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے خوشی میں اپنی گاڑیوں کے ہارن بجانے شروع کر دیئے اور جلوس کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل پڑے۔ ان کو لگا کہ فلسطین کی جانب سے جوابی حملوں نے اسرائیل کی کمر توڑ دی ہے اور وہ خوف کی حالت میں گھبرا کر اس جنگ بندی کے لئے رضامند ہو گیا ہے۔ کاش یہ سچ ہوتا کہ اسرائیل جیسی فوجی طاقت پرانے راکٹوں کے حملوں سے خوفزدہ ہو جاتا۔

کیا ہمیں یہ حقیقت نہیں معلوم کہ ایک چھوٹا سا ناجائز ملک ہونے کے باوجود اسرائیل کا دخل دنیا کے ہر ملک کی حکومت میں نظر آ تا ہے۔ تو کیا اس کو یہ علم نہیں رہا ہوگا کہ غزہ میں کون کون سی تنظیمیں ہیں اور ان کے پاس کیسے کیسے ہتھیار ہیں۔ ہمیں شائد اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اسرائیل کو حماس یا اسلامک جہاد نامی تنظیموں کے بارے میں سرسری سا علم رہا ہوگا۔ ویسے تو ہر ملک اور ہر حکومت اپنے مخالفین کی ایک ایک چیز پر نظر رکھتی ہے اور اسرائیل تو اس میں کچھ زیادہ ہی آ گے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اپنی مرضی سے حملہ کئے اور اپنی مرضی سے جنگ بندی کی۔ ہمیں یہ حقیقت بھی معلوم ہے کہ اسرائیل نے اپنے حملوں میں 232 فلسطینی شہید کر دیئے جس میں 65 سے زیادہ معصوم بچے بھی شامل ہیں اور متعدد عمارتوں کو ملبہ کے ڈھیر میں بدل دیا۔

ایک خاص مدت تک حملے کرنے کے بعد اسرائیل نے اپنے اس آقا یعنی امریکہ کے کہنے پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا جس نے پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنی دفاع کا پورا حق ہے۔ اس آقا نے مصر میں بیٹھے اپنے مہرے مصری صدر عبدالفاتح السیسی کا استمال کیا اور تینوں فریق یعنی اسرائیلی حکومت، حماس اور اسلامک جہاد نامی تنطیموں کو جنگ بندی کے لئے رضامند کیا اور باقائدہ ایک ڈیل کی۔ اس میں غزہ کی تعمیر نو اور شہدا کے تعلق سے ضرور بات ہوئی ہوگی کیونکہ ایسے حالات میں جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو ایسی تمام باتوں پر غور کیا جاتا ہے اور لینے دینے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فریقین کو رضامند کیا جاتا ہے۔

اس جنگ اور جنگ بندی سے جنگ کے تمام فریقین نے اپنے اہداف یعنی اپنے ٹارگیٹ حاصل کر لئے ہیں اور اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کچھ لوگوں کی جانیں گئیں، کچھ بچے یتیم ہوئے، کچھ عمارتیں ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئیں، کچھ لوگ بے گھر ہوئے اور کچھ لوگوں کی زندگیاں بے سمت ہو گئیں۔ امریکہ اپنی عین خواہش کے مطابق چودھری بنا رہا، اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کی طاقت کا پوری طرح جائزہ لے لیا یعنی وہ پرانے راکٹ سے آگے نہیں ہیں۔ اسرائیل نے مستقبل میں سودہ بازی کے لئے حماس کے ساتھ ایک اور تنظیم ’اسلامک جہاد‘ کو تیار کر لیا۔ حماس کی اس میں جیت یہ ہے کہ وہ فلسطینں کی سب سے بڑی طاقت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔

جنگ بندی سے فلسطینی عوام میں خوشی کے احساس نے گزشتہ گیارہ دنوں کی اذیتوں کو بھلا دیا، وہ بھول گئے کہ کس طرح ان کے ساتھی شہری اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے، وہ بھول گئے کتنے معصوم بچے یتیم ہوئے، کتنی عمارتیں ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل ہو ئیں اور کتنے لوگ بے گھر ہو گئے۔ جشن منانے کی ضرورت نہیں ہے، یہودیوں کی سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور متحد ہو کر ایک عالمی اقتصادی طاقت بننے کی ضرورت ہے، نہیں تو اسرائیلی حملوں پر ہم روتے رہیں گے، معصوم بچوں کی تصاویر شئیر کر کے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور جب حملہ آور اپنی مرضی سے حملہ بند کر دے گا اور آپ بھی جنگ بندی میں ہی اپنی عافیت سمجھیں گے تو سڑکوں پر جشن منا کر اس کو اپنی فتح تصور کرتے رہیں گے۔ اگر صحیح کہوں تو یہ جشن اسرائیل کو خوفزدہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ اپنی جان بچ جانے کا ہے۔