کسی کو حجاب پہننے یا نہ پہننے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے‘ امریکہ میں ریاستی اسمبلی کی کم عمر ترین رکن نبیلہ سید کا بیان

295

نئی دہلی: ہندوستانی نژاد مسلم امریکی خاتون نبیلہ سید نے امریکہ میں منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایلنوائے کی جنرل اسمبلی کے لیے منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی ہے۔

محض 23 سال کی باحجاب نبیلہ امریکہ کی ریاستی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والی کم عمر ترین رکن ہیں۔ ڈیموکریٹس کی امیدوار نبیلہ نے انتخاب میں 52.3 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے ریپبلیکن امیدوار کرس بوس کو شکست دی ہے۔

اسمبلی کی رکن منتخب ہونے کے بعد ’این ڈی ٹی وی‘ نے نبیلہ سید سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے گفتگو کی۔ ایران میں حجاب کے خلاف ہو رہے مظاہروں اور ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر عائد کی گئی پابندی کے تناظر میں جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ’’میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میرا حجاب پہننا میری مرضی تھی اور یہ میرا فیصلہ تھا۔

آپ کسی پر مذہب کو مسلط نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی کو حجاب پہننے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کسی کو حجاب نہ پہننے کے لیے بھی مجبور نہیں کر سکتے۔ ان دونوں صورتوں میں ہمیں نوجوان خواتین کو انتخاب کا حق دینا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’چاہے خواتین کے لئے تولیدی آزادی کی بات ہو یا پھر حجاب پہننے کا معاملہ ہو۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے انتخاب کا موقع ملا۔ میں ہر دن حجاب پہننے اور مسلمانوں کی نمائندگی کرنے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ انتخاب ضروری ہے اور کسی کی آواز کو دبایا جانا غلط ہے۔‘‘

نبیلہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا کبھی آپ کو امریکہ میں مسلمان ہونے اور حجاب پہننے کی وجہ سے امتیاز کا سامنا کرنا پڑا؟ تو انہوں نے کہا ‘‘لوگوں نے انتخابی مہم چلانے سے منع کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبیلہ تم ہندوستانی ہو، حجاب پہنتی ہو اور مسلم نظر آتی ہو۔ تمہیں کسی اور کو اس سیٹ کے لئے مہم چلانے کو کہنا چاہئے۔ جب میں ہائی اسکول میں تھی تو وہاں بھی میرے لئے سب کچھ آسان نہیں تھا۔ کئی لوگ مجھے کئی طرح کے ناموں سے پکارتے تھے لیکن اس کے مقابلہ ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جنہوں نے میری حمایت کی۔ میں کہنا چاہوں گی کہ دنیا میں اگر برے لوگ ہیں تو نیک لوگوں کی تعداد ان سے بہت زیادہ ہے۔‘‘

جب نبیلہ سے پوچھا گیا کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ملک کی اقلیت کے ساتھ اس کا رویہ ہمدردانہ نہیں ہے، اس پر ان کا کیا کہنا ہے تو انہوں نے کہا ’’میں یہ چاہتی ہوں کہ ہندوستان میں یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ پوری دنیا میں اس بات کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ یہاں امریکہ میں ہمیں مذہب کی بھی آزادی حاصل ہے اور مذہب سے بھی آزادی حاصل ہے۔ لہذا آپ کو مذہب پر عمل کرنے کا بھی اختیار ہے اور آپ کو یہ بھی اختیار ہے کہ آپ چاہیں تو کسی بھی مذہب پر عمل نہ کریں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ لوگوں کو ان کے عقیدہ کی وجہ سے امتیاز کا شکار نہیں بنایا جانا چاہئے۔‘‘