پرویز نادر

آزاد ہندوستان اور دنیا میں آج تک کہ سب سے بڑے اور صبر آزما احتجاج یا احتجاج جو اپنے ہی چن کر دی گئی حکومت کے خلاف یا ان کے بنائے ہوئے ظالمانہ اور عوام مخالف بلس کے خلاف عوامی پروٹیسٹ دنیا نے دیکھے دو طرح کے عوامی احتجاج،اور دو طرح کے نتائج و رلزٹ لیکن ایک احتجاج کامیاب اور دوسرا ناکام نظر آتا ہے اور ایک عوامی احتجاج جس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور دوسرا عوامی احتجاج جو نا صرف کامیاب ہوا بلکہ حکومت وقت کو اس پروٹیسٹ کے آگے گھٹنے ٹکینے پڑے
یہ پروٹیسٹ کیوں کامیاب ہوا اس کا کیا سبب اور وجوہات تھیں اس پر بات کریں گے دوسرا یہ جو دو احتجاج یا پروٹیسٹ ہیں ایک شاہین باغ اور دوسرا کسان آندولن مستقبل میں آنے والے دنوں میں اس کے کیا اثرات ہونگے اس پر بات کرتے ہیں
آپ جانتے ہیں کہ تین زرعی کرشی قانون کے خلاف مختلف کسان یونین کے پلیٹ فارم نے پروٹیسٹ اور آندولن کا اعلان کیا تھا جس میں مرکزی قیادت کے طور پر راکیش ٹکیٹ ڈاکٹر درشن پال،جوگیندر سنگھ اُگراہا وغیرہ کچھ لوگ تھے غازیپور بارڈر اور سنگھو بارڈر پر سجے اس احتجاج نے بی جے پی حکومت کے نا صرف دانت کھٹے کردیے بلکہ عالمی سطح پرانٹر نیشنل لیول پر مودی حکومت کو بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کسان آندولن کے قائدین یا لیڈر شپ نے اپنے گول کو پانے کے لیے کئی قربانیاں دی اور ساتھ ہی ان کی کمان میں چلنے والے کسانوں نے اپنا سب کچھ لگادیا سات سو سے زیادہ کسانوں کی جانیں اس آندولن یا احتجاج میں کام آئی ،سردی گرمی،بارش،جیل ،سلاخیں ،ملک سے غداری اور بغاوت ،اگر وادی جیوی پریجیوی سب کچھ انہوں نے سننا اور سہنا برداشت کیا جب کہیں جاکر ظالموں کو اپنے منصوبوں سے پیچھے ہٹنا پڑا اب جبکہ پرائے منسٹر نریندر مودی نے تین فارم لاع کرشی قانون کو واپس لینے کا اعلان بھی کردیا کسان آندولن کے نیتاؤں نے اپنے سارے مطالبات نہیں مان لیے جاتے تب تک اپنی جگہ سے ہٹنے سے انکار کردیا،اب آئیے آتے ہیں دوسرے احتجاج یا پروٹیسٹ کی طرف جو NRC،CAAاور اسی سے جڑے این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ سے شروع ہوا تھا ویسے تو یہ پروٹیسٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹوڈینٹ کے کیمپس میں پروٹیسٹ اور پھر دہلی پولس کی کیمپس میں گھس کے انسٹودینٹس کہ پٹائی گرفتاریوں کے خلاف شروع ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک میں شاہین باغ سجنے لگے ، اس پروٹیسٹ کے دوران بھی احتجاجیوں یا پروٹیسٹر کو ملک سے بغاوت اور غداری، آتنگ واد سب کچھ کہا گیا تین سو سے زائد لوگوں پر یو اے پی اے جیسے خطرناک دفعات لگائی گئیں اور پھر دہلی میں فساد بھی کرادیا گیا جس میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے آج بھی سیکڑوں اسٹوڈینٹ اور احتجاجی جیلوں میں قید ہیں جس میں سوشل ایکٹیویٹس،جرنلسٹ اور جامیہ ملیہ کے اسٹوڈینٹس شامل ہیں اس کے بعد 23/مارچ جب کرونا ہندوستان میں داخل ہوا اور پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اس پروٹیسٹ کو ختم کرنا پڑا اب آئیے اس کے اثرات اور رزلٹ کی طرفCAA/اورNRC جتنے خطرناک قوانین ہیں اس کو دیکھتے ہوئے شاہین باغ کے پروٹیسٹ کو ختم نہیں ہونا چاہیے تھا،کیوں کہ کرونا سے جتنی پریشانی عوام کو ہونے والی تھی اتنی ہی حکومت کو بھی ہونے والی تھی اسی لیے حکومت کو کرونا کی سنگینی کو دیلھتے ہوئے یہ قوانین واپس لینا پڑتے اگریہ احتجاج جاری رہتا دوسرا جتنے لوگوں پر اس پروٹیسٹ کے حوالے سے جتنے خطرناک دفعات لگی جیسے تین سو لوگوں پر یواے پی اے لگا اگر یہ تین سو نہیں بلکہ تین ہزار بلکہ تیس ہزار پر بھی لگتے یہ کوئی قیمت نا ہوتی اپنی نسلوں کو محفوظ کرنے کے لیے دوسرے اس میں جتنے لوگ شہید ہوئے کسی بھی حوالے سے وہ بھی قربانی کم تھی جو دی جاتی اس وقت کے آنے سے پہلے جب لاکھوں لوگ اپنی شہرت ثابت نا ہونے کے بعد یا تو زبر دستی ملک سے باہر کیے جاتے یا ڈٹینشن کیمپ میں ڈال دیے جاتے آج بھی دس لاکھ سے زیادہ روہنگیائی مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد پر پڑے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں اب چاہے وہ یونائٹیٹ نیشن(اقوام متحدہ) ہو یا مسلم کنٹریز(ممالک) ہو زیادہ سے زیادہ ان پر مہربانی یہ کی جاتی یے کہ کچھ ریلف اور کھانے پینے کی چیزیں وہاں پہنچادی جائیں تو ایسی صورت حال کے بننے سے پیلے جتنی بھی قربانیاں دی جائیں وہ کم ہیں اب اگر آپ کسان آندولن کو کمپیئر (موازنہ)کرینگے شاہین باغ والے پروٹیسٹ سے تو آپ دیکھیے کسانوں کے خلاف جو قانون بنے اگر وہ آج واپس نا بھی لیے جاتے تو جب بھی اس کے اثرات فصلوں کی فروخت اور اس کے ریٹ پر پڑنا شروع ہوتے تو پھر عوام اس کے خلاف کھڑی ہوجاتی اور یہ تو ڈیمو کریسی ہے جب بھی کسی دوسری پارٹی کی حکومت بنتی یا تو وہ ان تین بلوں کو واپس کرالیتی یا کسی بھی پارٹی کو الیکشن جیتنے کے لیے عقامی مفاد کو دیکھتے ہوئے اپنے مینو فیسٹو میں اس بل کی واپسی کا وعدہ کرنا ہی پڑتا لیکن پھر بھی اس بل کو واپس کرانے کے لیے سات سو جانوں کے نذرانے پیش کیے گئے سارے ملک سے ٹریکٹر جمع کرکے دہلی کا رخ کیا گیا آج بھی سیکڑوں کسان جیلوں میں قید ہیں آپ دیکھیے کسان آندولن شروع کب ہوا جب کرونا نے سارے دیش میں اپنے پنجے گاڑھ دیے تھے 25/دسمبر 2020 کو فارمر پروٹیسٹ شروع ہوا ۔۔۔سارے ملک میں لاک ڈاؤن کے باوجود ایک کسانوں کا مجموعہ تھا جو ڈٹا ہوا تھا لیکن وہی دوسری طرف CAAاورNRCکے پروٹیسٹ کو ہر جگہ پورے ملک میں ہینڈل اسٹوڈینٹس نے کیا ہے اور ساری جانی پہچانی قیادت بیک گراؤنڈ (پس منظر)میں تھی اور آج بھی دیکھیے راکیش ٹکیٹ کو جو کسانوں کے لیڈر ہیں ان کا عزم حوصلہ اور ارادوں کی مضبوطی۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے لیڈر شپ یہ ہوتی ہے قیادت۔۔۔۔ یہی بات مسلم قیادت کو سمجھنی چاہیے کہ بغیر میدان میں اترے اور بغیر قربانی کے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ میسج ہماری قیادت تک پہنچے آپ میں سے جتنے لوگ یہ تحریر پڑھ ریے ہیں ان سے میری گزارش ہے کہ میرا یہ میسج ہماری پولیٹیکل،اور ملی و مذہبی قیادت تک ضرور پہنچائے
یہ رپورٹ یوٹیوب چینل پر بھی سن سکتے ہیںhttps://youtu.be/yqs6UK_8x7g

Channel:Media watch &Analysis