چندی گڑھ : کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آج میڈیا سے کہا کہ ’’ان کو لگتا ہے کہ فصل کٹائی کا وقت آ گیا تو یہ ایک مہینے میں چلے جائیں گے۔ راجستھان اور پنجاب میں فصل کٹائی میں ایک مہینے کا فرق ہے۔ راجستھان کے کسان آئیں گے اور پنجاب والے کسان اپنی فصل کاٹنے چلے جائیں گے۔‘‘کسانوں کی ’ریل روکو مہم‘ پرامن طریقے سے 4 بجے ختم ہو گئی۔کسانوں نے آج چار گھنٹے کی ’ریل روکو‘ مہم 12 بجے سے 4 بجے تک چلائی۔ اس دوران کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع کہیں سے موصول نہیں ہوئی ہے۔ انتہائی پرامن طریقے سے کسانوں کی یہ مہم اختتام کو پہنچی۔ اس درمیان ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے سبھی زون میں ٹرین کی آمد و رفت معمول پر رہی۔ بیشتر ریلوے زون نے مظاہرین کے ذریعہ کسی بھی ٹرین کو روکنے کے واقعہ کی خبر نہیں دی ہے۔ٹکیت نے کہا، ’’فصلوں کی قیمت نہیں بڑھائی جا رہے لیکن ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اگر مرکز کی طرف سے صورتحال بگاڑی جائے گی تو ہم اپنے ٹریکٹر لے کر بنگال تک جائیں گے، وہاں بھی کسانوں کو ایم ایس پی نہیں مل رہی ہے۔‘‘ مرکز کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف مختلف کسان تنظیموں کی آج ‘ریل روکو’ تحریک کی وجہ سے ریلوے کو بہت سی ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا اور لدھیانہ اور فیروز پور سے آنے والی ٹرینوں میں سے کوئی بھی گاڑی موگا نہیں آسکی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں