یہ سنہ 1771 کی بات ہے جب انگلینڈ میں چیرٹسی اور ہیمبلٹن کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جا رہا تھا اور چیرٹسی کے ایک بیٹسمین تھامس وائٹ ایک عجیب و غریب شکل والے بیٹ کے ساتھ کریز پر آ گئے۔یہ بیٹ اس قدر چوڑا تھا کہ تینوں سٹمپس اُس کے پیچھے چھپ گئی تھیں۔

دراصل تھامس وائٹ چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح بھی آؤٹ نہ ہوں اور ہوا بھی ایسا ہی۔ ہیمبلٹن کے بولرز انھیں آؤٹ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ تینوں سٹمپس تو اس بیٹ نے چھپا کر رکھی ہوئی تھیں۔حریف ٹیم ہیمبلٹن کے کھلاڑیوں کے پاس احتجاج کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ انھوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس کے بعد کرکٹ کے قوانین میں کرکٹ بیٹ کا سائز مقرر کیا گیا جو اب جدید کرکٹ میں 4.25 انچ (ایک سو آٹھ ملی میٹر) ہے۔

یہ تو تھا ایک دلچسپ تاریخی واقعہ مگر دنیائے کرکٹ میں وہی بیٹ جس سے بیٹسمین چوکے چھکے لگا کر تماشائیوں کے دل جیت لیتے ہیں کبھی کبھی کسی بڑی خبر کی شہ سرخی بھی بن جاتے ہیں۔

آپ کو وہ منظر تو اچھی طرح یاد ہو گا جب آسٹریلوی فاسٹ بولر ڈینس للی نے پاکستانی ٹیم کے کپتان جاوید میانداد کو لات ماری تو وہ اُن کی طرف بلا لہراتے ہوئے آگے بڑھے تھے۔ وہ تصویر آج بھی کرکٹ کے میدانوں کی چند دلچسپ اور منفرد تصاویر میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔لیکن یہی کرکٹ بیٹ جب اپنے مقررہ سائز اور روایتی انداز سے ہٹے تو پھر تنازعے کا سبب بن گئے۔

کرکٹ کے قوانین کے مطابق کرکٹ میں استعمال ہونے والے بیٹ کا سائز مقرر ہے اور یہ لکڑی سے بنا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کرکٹ کی تاریخ میں ایسے متعدد واقعات موجود ہیں جب بیٹسمینوں نے قواعد وضوابط سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کی کوشش کی، کبھی رنگت بدلی تو کبھی اس کا سائز تبدیل کیا لیکن ان کی یہ حرکتیں کرکٹ کے قوانین کے خلاف ٹھہریں اور وہ اور ان کے تبدیل شدہ بیٹ متنازع بن گئے۔

آئیے چند دلچسپ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔
کاربن گریفائٹ کی تہہ والا بیٹ
سنہ 2005 میں پاکستان کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے ڈبل سنچری سکور کی۔ ان کی یہ اننگز اس لیے متنازع بن گئی کیونکہ انھوں نے جس بیٹ سے بیٹنگ کی اس کی پشت پر کاربن گریفائٹ کی پٹی لگی ہوئی تھی۔

کرکٹ کے قوانین مرتب کرنے والے ادارے ایم سی سی نے اس معاملے پر اپنی تشویش سے آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ یہ تہہ یا پٹی لگانے سے بیٹ کو مزید طاقت ملتی ہے اور اس کا فائدہ بیٹسمین کو ہوتا ہے۔

ایم سی سی نے اس بیٹ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اسے غیرقانونی قرار دے دیا اس طرح رکی پونٹنگ اسے مزید استعمال نہ کر سکے۔ایم سی سی نے اسی طرح کے چند دوسرے کرکٹ بیٹ کا استعمال بھی روک دیا جن میں کاربن گریفائٹ کی تہہ لگی ہوئی تھی۔


کرس گیل کا گولڈن بیٹ
’یونیورس باس‘ کے نام سے پہچانے جانے والے کرس گیل اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بن گئے جب وہ سنہ 2015 کی بگ بیش میں سنہرے رنگ کے بیٹ کے ساتھ بیٹنگ کرنے آئے۔یہ بیٹ انڈیا میں تیار کیا گیا تھا اور اس کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ اس میں دھات موجود ہے لیکن اس بیٹ کو تیار کرنے والی کمپنی کے مالک نے اس بات کی تردید کر دی اور کہا کہ اس بیٹ میں کوئی میٹل (دھات) موجود نہیں بلکہ صرف اس کا رنگ گولڈن ہے۔

کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ کرکٹ بیٹ میں کیا چیز استعمال ہو سکتی ہے اور کیا چیز نہیں؟

آندرے رسل کا سیاہ رنگ کا بیٹ


سنہ 2016 کی بگ بیش لیگ میں تماشائیوں نے دیکھا کہ ویسٹ انڈین کرکٹر رسل آرنلڈ سیاہ لکڑی کا بیٹ لیے بیٹنگ کرنے آئے ہیں جس پر گلابی گرپ چڑھی ہوئی تھی۔

اس وقت سب کے ذہنوں میں یہی سوال تھا کہ کیا سیاہ رنگت کا بیٹ استعمال کرنا قواعد و ضوابط کے مطابق ہے؟

کرکٹ آسٹریلیا نے پہلے توآندرے رسل کو یہ بیٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی لیکن بعد میں اس کے استعمال پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی کہ اس کی ضرب سے گیند کا رنگ خراب ہو رہا ہے۔

مونگوس بیٹ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن اپنے دور میں جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور تھے۔

وہ سنہ 2010 کی آئی پی ایل میں جب بیٹنگ کے لیے آئے تو ان کے ہاتھ میں موجود بیٹ دیکھنے والوں کو حیران کرنے کے لیے کافی تھا۔

اس بیٹ کو ’مونگوس بیٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا ہینڈل عام بیٹ سے بڑا اور کھیلنے والا بلیڈ چھوٹا تھا جیسے یہ کوئی سکواش ریکٹ ہو۔

اس بیٹ کا اصل مقصد یہی تھا کہ آسانی سے گیند کو ہٹ کیا جا سکے۔ میتھیو ہیڈن نے چنئی سپر کنگز کی طرف سے کھیلتے ہوئے دلی کے خلاف 43 گیندوں پر 93 رنز سکور کیے لیکن اس بیٹ کی ایک خرابی یہ تھی کہ اس سے جارحانہ بیٹنگ تو ہو سکتی تھی لیکن دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے گیند روکنا بہت مشکل تھا۔

میتھیو ہیڈن کے ساتھی سریش رائنا نے بھی اس بیٹ سے کھیلنے کا تجربہ کیا لیکن انھیں مزا نہ آیا اور انھوں نے اس مونگوس بیٹ کے بجائے روایتی بیٹ کو ہی ترجیح دی۔
ڈینس للی کا المونیم بیٹ
15 دسمبر 1979 میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان پرتھ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن آسٹریلیا کی پوزیشن خراب تھی۔ 232 رنز پر اس کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ فاسٹ بولر ڈینس للی کھیل کے اختتام پر 11 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے لیکن دوسرے دن وہ ایک تنازعے کا مرکزی کردار بن گئے۔

ڈینس للی جس بیٹ کے ساتھ بیٹنگ کرنے آئے وہ عام لکڑی کا نہیں بلکہ المونیم کا بنا ہوا بیٹ تھا۔ انھوں نے چند روز قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف برسبین میں بھی اسی ایلمونیم کے بیٹ سے بیٹنگ کی تھی لیکن اس وقت کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا تاہم اس بار انگلینڈ کے کپتان مائیک بریرلی نے امپائرز سے شکایات کی کہ اس بیٹ سے گیند خراب ہو رہی ہے۔

ڈینس للی سے امپائرز نے کہا کہ وہ بیٹ تبدیل کر لیں لیکن وہ نہ مانے۔ یہ بحث طول پکڑ گئی۔ اس دوران آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کو مداخلت کرنے میدان میں آنا پڑا اور جب انھوں نے لکڑی کا بیٹ ڈینس للی کے حوالے کیا تو ڈینس للی نے غصے میں آ کر اپنا ایلمونیم بیٹ دور پھینک دیا۔

پیٹرسن کے بیٹ پر سلی کون ٹیپ کا الزام
سنہ 2013 میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی گئی ایشیز سیریز کے دوران آسٹریلوی میڈیا نے یہ الزام عائد کیا کہ انگلینڈ کے کچھ بیٹسمین جن میں کیون پیٹرسن بھی شامل ہیں، اپنے بیٹ پر سلیکون کی ٹیپ لگائے ہوئے ہیں تاکہ بلے کے کنارے سے لگنے والی گیند ہاٹ سپاٹ میں نظر نہ آ سکے۔

کیون پیٹرسن نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ خوفناک قسم کی صحافت ہے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔آئی سی سی نے اس موقع پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ سلیکون ٹیپ کے معاملے پر کسی قسم کی تحقیقات نہیں کر رہے اور اس بارے میں میڈیا رپورٹس درست نہیں۔انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر آسٹریلوی ٹی وی چینل نائن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد کیون پیٹرسن کے بارے میں طنزیہ اشتہار بنانے والی کمپنی کو ان سے معافی مانگنی پڑی تھی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔