کرپٹو کنگ: 5 سال میں 32 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی بنانے والے نوجوان کا حیران کن زوال جس نے کرپٹو دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

558

سیم بینک مین فرائیڈ کو ’کرپٹو کنگ‘ کا خطاب ملے ابھی آٹھ ہی دن ہوئے تھے کہ ان کی کمپنی نے دیوالیہ ہونے کا دعویٰ کر دیا اور وہ چیف ایگزیکٹیو کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اب ان کو امریکہ میں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گذشتہ چند سال کے دوران انٹرنیٹ سیم بینک مین کے انٹرویوز سے بھر گیا تھا جن میں وہ بہاماس میں اپنے آفس سے بیٹھے ویڈیو چیٹ پر بات چیت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ان میں سے چند انٹرویوز کے دوران ایک آواز مسلسل آتی ہے۔

جب ان کے سامعین ان کا انٹرویو سن رہے ہوتے، جس میں وہ صرف پانچ سال میں ارب پتی بننے کی متاثر کن کہانی سنا رہے ہوتے، تو واضح ہوتا کہ یہ آواز ان کے کمپیوٹر ماؤس کی کلک کرنے کی آواز ہے۔

اس دوران بینک مین کی نظریں مسلسل سکرین پر دوڑ رہی ہوتیں۔ ان ویڈیوز سے واضح نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کمپیوٹر پر ایسا کر رہے ہوتے تھے لیکن ان کی سوشل میڈیا پر ٹویٹس سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

فروری 2021 میں انھوں نے لکھا کہ ’میں فون کال کے دوران لیگ آف لیجنڈز گیم کھیلنے کی وجہ سے کافی بدنام ہوں۔‘

کرپٹو کرنسی ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے سابق باس ویڈیو گیمز کے شوقین ہیں۔ اپنے 10 لاکھ فالوورز کو انھوں نے بتایا کہ اس سے ان کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کی ٹریڈنگ کرنے والی اپنی دو کمپنیوں کے کاروباری معاملات سے ذہن کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ شراب پیتے ہیں، کچھ جوا کھیلتے ہیں۔ میں لیگ کھیلتا ہوں۔‘

30 سالہ بینک مین کے ڈرامائی زوال کے بعد ان کی اس عادت کے بارے میں ایک اور چیز منظر عام پر آئی ہے۔سیکیوا کیپیٹل نامی وینچر کیپیٹل کمپنی کی بلاگ پوسٹ کے مطابق ان کی سرمایہ کاری ٹیم کے ساتھ ایک اعلی سطحی ویڈیو کال کے دوران بھی بینک مین لیگ آف لیجینڈز گیم کھیل رہے تھے۔

تاہم اس بات سے کاروباری معاملات متاثر نہیں ہوئے اور سیکیوا کیپیٹل نے بینک مین کی ایف ٹی ایکس کمپنی میں 210 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

اس ہفتے سیکیوا کیپیٹل نے اس بلاگ پوسٹ کو ہٹا دیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کو نقصان کی مد میں شامل کر رہے ہیں۔

لیکن بینک مین کی 32 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو سلطنت میں خطیر سرمایہ لٹانے والی یہ واحد کمپنی نہیں۔

ایف ٹی ایکس کے تقریبا 12 لاکھ رجسٹرڈ صارفین تھے جو اس ایکسچینج کے ذریعے بٹ کوائن اور ہزاروں دیگر کرنسیوں کی سودے بازی کر رہے تھے۔

ان میں چھوٹی سرمایہ کاری کرنے والوں سے لے کر بڑی کمپنیاں تک شامل تھیں جو اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایف ٹی ایکس کے ڈیجیٹل بٹوے میں پھنسا ہوا ان کا پیسہ کبھی واپس ملے گا یا نہیں۔

یہ ایک حیران کن عروج اور زوال کی کہانی ہے جس میں بینک مین کی خطرات سے کھیلنے اور انعام پانے کی ڈرامائی داستانیں موجود ہیں۔

بینک مین نے ایک مشہور امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے فزکس اور حساب کی تعلیم حاصل کی۔

تاہم اس ذہین نوجوان کا کہنا ہے کہ بے شمار دولت کے حصول کا سفر دراصل ہوسٹل کے کمروں سے شروع ہوا۔گذشتہ ماہ بی بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تحریک سے متاثر ہوئے جس میں ’لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایسا کیا کر سکتے ہیں جس سے دنیا پر مثبت اثر پڑے۔‘

چنانچہ بینک مین کے مطابق انھوں نے یہ سوچ کر بینکنگ کا رخ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائیں گے اور اسے اچھے کاموں کے لیے استعمال کریں گے۔

پہلے انھوں نے نیو یارک میں ٹریڈ سٹاک کا کام سیکھا لیکن جلد ہی اس سے بے زار ہو کر بٹ کوائن کی دنیا کا رخ کیا۔

انھوں نے دیکھا کہ کس طرح بٹ کوائن کی قیمت مختلف ایکسچینج میں یکساں نہیں تھی اور اسی وجہ سے انھوں نے ایک جگہ سے سستا بٹ کوائن خرید کر دوسری جگہ مہنگے داموں فروخت کرنے کا کام شروع کر دیا۔

ایک ماہ تک منافع بخش کاروبار کرنے کے بعد انھوں نے اپنے چند دوستوں سے مل کر المائدہ ریسرچ کے نام سے ٹریڈنگ کاروبار کا آغاز کیا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آسان کام نہیں تھا اور ان کو بینکوں اور سرحدوں کے پار سرمایہ چلانے کا فن سیکھنے میں کافی وقت لگا لیکن تین ماہ بعد ان کا جیک پاٹ لگ گیا۔

جیکس جونز اور مارٹن وارنر شو پوڈ کاسٹ پر ایک سال قبل بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہم کام کرتے چلے گئے۔ اگر ہمارے راستے میں رکاوٹ آتی تو ہم نیا راستہ تلاش لر لیتے۔ اگر ہمارا سسٹم بوجھ برداشت نہیں کر پاتا تو ہم نیا سسٹم تخلیق دے لیتے۔‘

جنوری 2018 تک ان کی ٹیم روزانہ ایک ملین یعنی 10 لاکھ ڈالر کما رہی تھی۔

سیم بینک مین فرائیڈ باضابطہ طور پر 2021 میں ارب پتی بن چکے تھے جس کی وجہ ایف ٹی ایکس نامی کمپنی تھی جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بن چکی تھی جس میں روزانہ 10-15 ارب ڈالر کی ٹریڈنگ ہوتی تھی۔

2022 کے اوائل میں ایف ٹی ایکس کی مالیت کا تخمینہ 32 ارب روپے لگایا گیا تھا جو اس وقت تک ایک گھریلو نام بن چکا تھا اور مشہور شخصیات اس سے تعلق جوڑ رہی تھیں۔

اس دوران بینک میں اپنے آفس میں ہی ایک چھوٹے سے بستر پر سوتے تھے۔

ان کا وہ خواب بھی پورا ہونا شروع ہو گیا تھا جس کے تحت انھوں نے خطیر رقم خیرات کرنا تھی۔ بی بی سی ویڈیو کو دیے جانے وال ایک انٹرویو میں ان کا دعوی تھا کہ اب تک وہ کروڑوں ڈالر عطیہ کر چکے ہیں۔

ان کی دریا دلی صرف خیراتی اداروں تک محدود نہیں تھی۔ گذشتہ چھ ماہ میں کرپٹو کنگ کو ایک اور خطاب بھی ملا – ’کرپٹو کا وائٹ نائٹ‘ یعنی سورما۔

ایک ایسے وقت میں جب کرپٹو کرنسی کی مالیت کم ہو رہی تھی اور مارکیٹ مندی کا شکار تھی، بینک مین کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر عطیہ کر رہے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مندی کا شکار کرپٹو فرمز کی مدد کرنے کی کوشش کیوں کی تو انھوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کرپٹو کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے دو ارب ڈالر سرمایہ رکھا ہوا ہے۔

تاہم گزشتہ ہفتے وہ اپنی کمپنی اور صارفین کو بچانے کے لیے مدد مانگتے دکھائی دیے۔

ایف ٹی ایکس کے اصل مالی استحکام کے بارے میں اس وقت سوال اٹھنا شروع ہوئے جب کائن ڈیسک نامی ویب سائٹ نے دعوی کیا کہ المائدہ ریسرچ دراصل ایک ایسے کوائن کی بنیاد پر کھڑی ہے جس کو ایف ٹی ایکس کی ایک اور کمپنی نے خود ہی ایجاد کیا ہے۔

ان پر وال سٹریٹ جرنل نے یہ الزام بھی لگایا کہ المائدہ ریسرچ نے ایف ٹی ایکس کے صارفین کا پیسہ بطور قرض استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔

ان کے اختتام کا آغاز اس وقت ہوا جب ایف ٹی ایکس کی مرکزی مدمقابل کمپنی بائنانس نے ایف ٹی ایکس سے جڑے تمام کرپٹو ٹوکن چند دن بعد فروخت کر دیے۔

بائنانس کے چیف ایگزیکٹیو چینگ پینگ ژاو نے اپنے 75 لاکھ صارفین کو بتایا کہ ان کی کمپنی حال ہی میں سامنے آنے والے انکشافات کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے۔اس قدم کے بعد پریشان صارفین نے ایف ٹی ایکس کرپٹو ایکسچینج سے اپنا پیسہ نکالنا شروع کر دیا جو مجموعی طور پر اربوں ڈالر تھا۔

بینک مین نے پیسہ نکالنے کے عمل کو روک دیا اور مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بائنانس نے بھی ایک موقع پر ایف ٹی ایکس کو خریدنے کے بارے میں سوچا لیکن پھر کہا کہ صارفین کے پیسے کے غلط استعمال اور امریکی ایجنسی کی ممکنہ تحقیقات کے باعث یہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایک دن بعد ایف ٹی ایکس نے دیوالیہ پن کا اعلان کر دیا۔بینک مین نے ٹؤٹر کے ذریعے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بہت افسوس ہے کہ ہم اس جگہ پہنچ گئے ہیں۔‘انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ واپسی کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جس طرح سے سب کچھ ہوا‘، اس سے وہ بہت حیران ہوئے۔

کرپٹو کی دنیا بھی ایسے ہی حیران اور پریشان ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت دو سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے اور کئی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر ایف ٹی ایکس کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو اگلی باری کس کی ہو گی؟