Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

کرونا کی وجہ سے مرنے والے مسلمانوں کی تدفین مسلم قبرستانوں میں نہ کرنے والی عرضداشت پر ممبئی ہائی کورٹ میں بحث مکمل ، جمعتہ علماء سمیت دیگر مسلم تنظیموں نے مخالفت کی، فیصلہ محفوظ ، گلزار اعظمی

IMG_20190630_195052.JPG

IMG_20200502_155843.JPG

ممبئی 20 مئی .کرونا کی وجہ سے مرنے والوں کی تدفین مسلم قبرستانوں میں کرنے کے خلاف داخل پٹیشن پرآج ممبئی ہائی کورٹ میں بحث مکمل ہوگئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ۔
جمعتہ علماء سمیت چھ مسلم تنظیموں نے بطور مداخلت کار اپنے دلائل پیش کئیے جبکہ بی ایم سی نے بھی قبرستان میں تدفین کے حق حلف نامہ داخل کیا اور پردیپ گاندھی کی عرضداشت کی مخالفت کی ۔
عیاں رہے کہ ممبئی کے مضافات باندرہ میں رہائش پذیر ایک غیر مسلم شخص نے گذشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرکے باندرہ میں واقع مسلم کوکنی قبرستان ، کھوجہ سنت جماعت قبرستان اور کھوجہ اثنا عشری جماعت قبرستان میں کرونا کی وجہ سے مرنے والے لوگوں کی میت دفنانے کی مخالفت کی تھی ، عرض گذار پردیپ گاندھی نے اپنی پٹیشن میں تحریر کیا ہے کہ ان قبرستانوں میں لاشوں کو دفنانے سے علاقے میں کرونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے حالانکہ اس سے قبل ۲۷ اپریل کو ممبئی ہائی کورٹ نے بی ایم سی کی جانب سے میت دفنانے کی اجازت دیئے جانے کے خلاف داخل پٹیشن پر عرض گذار کو کوئی راحت نہیں دی تھی جس کے بعد عرض گذار سپریم کورٹ سے رجوع ہوا تھا لیکن جمعتہ علماء کی بروقت مداخلت کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اسے کوئی راحت نہیں دی تھی، جسٹس روہنٹن نریمن اور جسٹس اندرا بنرجی نے البتہ ممبئی ہائی کورٹ کو حکم دیا تھا کہ دو ہفتوں کے اندر عرضداشت پر سماعت مکمل کرلی جائے جس کے بعد آج ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور جسٹس ایس ایس شندے کے روبرو معاملے کی سماعت عمل میں آئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
آج عدالت میں جمعتہ علماء ہند (ارشد مدنی ) کی جانب سے ایڈوکیٹ افروز صدیقی نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن نے خود اپنے بیان میں کہا ہیکہ مرنے کے بعد اگر میت کی تدفین زمین میں کردی جائے تو اس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ نہیں رہتا ۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ منسٹری آف ہیلتھ (حکومت ہند ) اور انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن و دیگر طبی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی گائڈلائنس کو فالو کرتے ہوئے تدفین کی جارہی ہے جس پر اعتراض کرنا غیر ضروری ہے ۔
ایڈوکیٹ افروز صدیقی نے عدالت میں حال میں مدارس ہائی کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ پیش کیا جسکے مطابق آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے مطابق تمام شہریوں کو ان کے مذہب کے مطابق آخری رسومات انجام دینے کا حق حاصل ہے نیز عرض گذار کا گھر قبرستان سے 600 میٹر دور واقع ہے اور قبرستان میں رہنے والے لوگ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں ۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ بی ایم سی نے بھی قبرستانوں میں تدفین کی حمایت میں حلف نامہ داخل کیا ہے نیز سپریم کورٹ نے بھی عرض گذرا کو کوئی راحت نہیں دی ہے لہٰزا عدالت کو بھی پردیپ گاندھی کی عرضداشت کو مسترد کر دینا چاہیے ۔
اسی درمیان پردیپ گاندھی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ میت کی تدفین کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کرونا میت کی تدفین شہر سے باہر کی جائے ۔
اس معاملے میں جمعتہ علماء کی جانب سے سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی فریق بنے ہیں ۔
آج کی عدالتی کارروائی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعتہ علماء ممبئی ہائی کورٹ میں بطور مداخلت کار رجوع ہوئی ہے تاکہ مسلم قبرستانوں میں تدفین کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے ، انہوں نے کہا کہ جمعتہ علماء نے سپریم کورٹ میں مداخلت کی تھی اور ہائی کورٹ میں بھی پر زور الفاظ میں مخالفت کی ہے اور امید ہیکہ عدالت ہمارے حق میں فیصلہ دے گی۔
اس معاملے میں جمعتہ علماء کے ساتھ ساتھ مزید چھ فریق نے پردیپ گاندھی کی عرضداشت کی مخالفت میں عرضداشت داخل کی ہے جن کے نام ، جامع مسجد ٹرسٹ ،نو پاڑا مسجد باندرہ ،ٹرسٹ ، آفتاب صدیقی شمشیر احمد شیخ اور ریاض احمد محمد ایوب خان و دیگر شامل ہیں ۔