ریاض – سعودی پریس ایجنسی.خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی ہدایت پر کرونا وائرس کی وبا کے دوران مسجد حرام اور مسجد نبوی میں جنرل پریذیڈنسی کے زیر انتظام دعوت و ارشاد کی سرگرمیوں اور خدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کرونا کی وبا کے باوجود اس سلسلے میں متعلقہ خدمات کو متاثر ہونے نہیں دیا گیا۔

حرم شریف میں تعلیمی حلقوں کی بندش کے وقت سے اس سلسلے کو فاصلاتی طریقہ تعلیم کے ذریعے جاری رکھا گیا اور اسباق کو مکمل کیا گیا۔ اس دوران اسباق کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے کئی زبانوں میں نشر کیا گیا۔

اس عرصے میں 250 سے زیادہ اسباق اور لیکچروں کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں 15 سے زیادہ صاحب علم و فضیلت شخصیات نے بطور مدرس اپنے فرائض انجام دیے۔ مسجد حرام کے اسٹوڈیو میں 80 کے قریب اسباق کی ریکارڈنگ ہوئی۔ اس دوران کرونا کی وبا سے متعلق 4 توسیعی اور آگاہی لیکچروں کا بھی انعقاد ہوا۔ گذشتہ برس رمضان کے مہینے کے دوران 20 سے زیادہ درسوں کا انعقاد ہوا۔

فاصلاتی تعلیم کے طور پر یومیہ اوسطا 10 اسباق کو براہ راست نشر کیا گیا۔ مجموعی طور پر شیوخ کے 60 کے قریب دروس کو بصری ذریعے سے لوگوں تک پہنچایا گیا۔


اس دوران ساؤنڈ کلاؤڈ کے پلیٹ فارم کے ذریعے 90 سے زیادہ مواد اپ لوڈ کیا گیا۔ مسجد حرام کے دروس پر مشتمل 100 سے زیادہ وڈیو کلپوں کو پوسٹ کیا گیا۔

اس دوران مفت ٹیلی فون سروس کے ذریعے مفتیان کرام نے لوگوں کے شرعی مسائل اور استفسارات کو جواب دیا۔ اس پروگرام میں 30 علماء شامل رہے۔ ایک دن میں ٹیلی فون سروس کے ذریعے مستفید ہونے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ رہی۔

اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم اور تلاوت کے واسطے حرمین کے قاریوں کی خدمات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس مقصد کے لیے وڈیو کال اور آڈیو کال کے ذریعے چوبیس گھنٹے دنیا بھر میں لوگوں کو (مرد اور عورت دونوں اصناف کو) خدمات فراہم کی گئیں۔

حرمین کے قاریوں کے اس پروگرام میں اندراج کرنے والے افراد کی تعداد 65658 ہے۔ ان میں 4 برس سے لے کر 80 برس تک کے افراد ہیں۔ پروگرام میں دنیا کے 210 ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ اس دوران 349 افراد نے قرآن کریم ختم کر کے اجازت حاصل کی۔ علاوہ ازیں قرات پروگرام کی ویب سائٹ پر آنے والوں کی تعداد 6065859 رہی۔ پروگرام کے معلمین کے پاس 6 زبانوں کا آپشن ہوتا ہے۔ ان میں عربی، اردو، انگریزی، انڈونیشی، ملاوی اور ہاؤسا شامل ہیں۔