راجستھان کے کرولی میں رام نومی کے دوران جب تشدد پیدا ہوا تو یہاں کی 48 سالہ مدھولیکا سنگھ نے مشتعل بھیڑ کا سامنا کرتے ہوئے 15 لوگوں کی حفاظت کی، جن میں بیشتر مسلم تھے۔ مدھولیکا اپنے شوہر کے انتقال کے بعد سے گزشتہ پانچ سال سے کرولی میں کپڑوں کی دکان چلا رہی ہیں۔ رام نومی کے دن جب یاترا نکلی تو اچانک انھیں لوگوں کی چیخ پکار سنائی دی۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔

مدھولیکا نے کہا کہ ’’لوگ بھاگ رہے تھے، دکانوں کے شٹر گرائے جا رہے تھے۔ سب نے کہا کہ فساد پیدا ہو گیا۔ میں نے شاپنگ کمپلیکس کا دروازہ بند کر دیا اور جو لوگ وہاں چھپنے کے لیے آئے تھے انھیں نہیں گھبرانے کے لیے کہا۔ میں نے انھیں بچایا کیونکہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔‘‘ تقریباً 15 لوگوں نے مدھولیکا سنگھ کو کہا کہ وہ خوفزدہ ہیں اور انھیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ وہاں سے بھاگیں یا رکیں۔ مدھولیکا کے مطابق بھیڑ نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے روکا۔

مدھولیکا کی اس بہادری کے سبب اپنی جان بچانے والے محمد طالب اور دانش نے کہا کہ مدھولیکا دیدی نے ہی ان کی جان بچائی اور انھیں پریشان نہیں ہونے کے لیے کہا۔ اسی شاپنگ کمپلیکس میں سیلون چلانے والے متھلیش سینی نے کہا کہ انھوں نے اور دیگر تین خواتین نے بالٹی میں پانی بھر کر آگ کی لپٹیں بجھانے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ پولیس کے مطابق رام نومی یاترا کے دوران لاؤڈاسپیکر پر حساس نعرے لگائے جا رہے تھے اور جلد ہی پتھراؤ شروع ہو گیا اور پھر تشدد کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔