آپ زندگی کے سفر میں کسی بھی موڑ پر ہوں اپنی پریشانی کی وجہ کو ختم کرنے کے لئے اگر کسی کی ایموشنل اور موٹیویشنل اسٹوری مِل جائے تو یہ آپ کی ہمت بڑھانے کی وجہ بن جاتی ہے . آج ایسی ہی ایک کہانی ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں کہ بڑھے ہوئے وزن اور ضرورت سے زیادہ موٹاپے کے ساتھ ساتھ انہوں نے لوگوں کے طعنوں اور مزاق سے دلبرداشتہ ہونے کے بجائے کیسے اپنا وزن کم کر کے اپنی شخصیت ہی بدل ڈالی .

 

زیادہ کھانا کھانا کچھ لوگوں کی عادت تو کچھ کی ڈپریشن کو دور کرنے کی ایک ٹرِک ہوتی ہے، لیکن اگر انسان موٹاپے کا شکار ہو اور اس ڈپریشن میں مزید کھانا کھا کر ڈپریشن دور کرے تو سوچیں کیا ہوگا.ایسا ہی کچھ معاملہ امبر نیل نامی مغربی خاتون کے ساتھ تھا، انہوں نے اپنی نو عمری کا زیادہ تر حصہ اپنے وزن کو کم کرنے کے لئے ڈائٹنگ میں گزار دیا اور پھر چند دِنوں بعد ہی دوبارہ وزن بڑھ جاتا، لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے کے امبر کے موٹاپے کا مزاق بھی اُڑاتے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو کر مزید کھانا کھاتی رہیں.

ان حالات سے تنگ آ کر امبر نے ایک ماہرِ نفسیات سے رابطہ کیا اور ایک مینٹل ہیلتھ ٹریٹمنٹ لے کر اپنی زیادہ کھانے کی عادت سے جان چھڑائی، یوں 2017 میں انہوں نے 325 پاؤنڈ وزن کم کر کے سب کو حیران کر دیا.امبر نیل نے اپریل 2019 میں ویمن ہیلتھ کو بتایا کہ "میرے ڈاکٹر نے مجھے یہ احساس دلانے کی دماغی تھراپی کی تھی کہ میری کھانے کی عادات کتنی ناگوار ہوگئی ہیں، میں صبح اُٹھنے سے لے کر رات کو بستر پر جانے تک بس کھاتی ہی رہتی تھی”.ایک بار جب امبر نے اپنے ڈپریشن انزائیٹی اور زیادہ کھانے کی عادت پر قابو پا لیا تو انہوں نے اپنی زندگی سے فاسٹ فوڈ، بے وقت کچھ بھی کھانا اور لوگوں کی باتوں سے پریشان ہونا چھوڑ کر روزانہ 45 منٹ ورزش کر کے اپنے جسم کو کم کرنا شروع کر دیا.آج وہ کہتی ہیں کہ ”وہ ایک وقت میں ایک وقت کا کھانا کھاتی ہیں اور پھر خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کر لیتی ہیں”.اگر آپ خود دِل سے کچھ کرنا چاہیں تو ہر کام ممکن ہے، بس سچی لگن ہونا شرط ہے.