کرنسی بحران: کیا پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات واقعی بڑھ رہے ہیں؟

206

پاکستان کو آئندہ ماہ یعنی دسمبر کی پانچ تاریخ کو ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی کرنی ہے جو پانچ سال پہلے بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض اٹھانے کے لیے جاری کیا گیا تھا تاہم اس قرض کی ادائیگی کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔

ان قیاس آرائیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے کریڈٹ ڈیبٹ سویپ (سی ڈی ایس) کے بہت زیادہ بڑھنے سے تقویت ملی۔

پاکستان میں مالیاتی امور سے متعلق ریسرچ ہاؤسز اور افراد کی جانب سے سی ڈی ایس کے بڑھنے کو خطرناک قرار دیا گیا اور پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرے کو مسترد کیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے چند روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں ان خبروں کو مسترد کیا کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز کے سی ڈی ایس میں بے تحاشا اضافے کی پیشرفت کے بعد جاپانی بینک نومارا کی جانب سے پاکستان کو درپیش کرنسی بحران کی رپورٹ سامنے آئی اور بینک کی جانب سے پاکستان کو ان سات ملکوں کی فہرست میں رکھا گیا جو اس وقت شدید کرنسی بحران سے دوچار ہیں۔

سی ڈی ایس میں ہونے والے اضافے اور پاکستان کو درپیش کرنسی بحران کے بارے میں پاکستان کے معاشی اور مالیاتی امور کے ماہرین تبصرہ کرتے ہیں کہ ملک کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور معاشی حالات تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔

تاہم ماہرین اگلے مہینے ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کے قرضے کی ادائیگی پر ڈیفالٹ کے امکان کو مسترد کرتے ہیں لیکن اس کے بعد مزید قرضے کی ادائیگی کے لیے پاکستان کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں کیونکہ ملک کو اس وقت کہیں سے قابل ذکر مالی امداد یا قرض نہیں مل پا رہا جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں۔

پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان کیوں ظاہر کیا گیا؟
پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے امکان اور خطرے کے بارے میں خبریں اس وقت ابھریں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے بانڈز پر سی ڈی ایس بہت زیادہ بڑھا۔

سی ڈی ایس دراصل بانڈز پر انشورنس پریمیئم ہوتا ہے کہ ان بانڈز میں سرمایہ کاری کو انشورنش کور حاصل ہو تاکہ ان بانڈز پر ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کو اپنی رقم واپس مل جائے۔

اس سال کے شرو ع میں سی ڈی ایس کی شرح چار سے پانچ فیصد تھی جو گزشتہ چند دن میں نوے فیصد سے اوپر چلی گئی۔

مالیاتی امور کے ماہر یوسف سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے یہ شرح عمومی طور پر چار سے پانچ فیصد ہوتی تھی تاہم کچھ مہینوں سے اس میں اضافہ ظاہر ہونا شروع ہوا۔

انھوں نے کہا کہ کیونکہ پاکستان نے اگلے مہینے ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کی ادائیگی کرنی ہے اس لیے سی ڈی ایس میں اضافے کی خبروں نے ابھرنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ یقینی طور پر معاشی حالات خراب ہیں، اس لیے ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گے۔

انھوں نے کہا کہ اگلے مہینے پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی کرنی ہے تو پھر اس کے ساتھ سی ڈی ایس کی شرح میں اضافے نے ایسی خبروں کو مزید بڑھا دیا۔

کیا پاکستان دیوالیہ ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کی خبروں کے بارے میں وزیر مملکت ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں اور پاکستان اپنی بین الاقوامی ادائیگیوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مہینے ایک ارب ڈالر کے بانڈ کی ادائیگی کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ اگلے مہینے ایک ارب ڈالر کی ادائیگی تو پاکستان کر لے گا تاہم اس کے بعد کی صورتحال بہت خطرناک ہے اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ کم ہوئی ہے اور ملک کو باہر سے ڈالر بھی نہیں مل رہے جس کی وجہ سے حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے فوری طور پر ڈیفالٹ ہونے کا تو خطرہ نہیں تاہم آنے والے مہینوں میں اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ ملک کو کہیں سے کوئی قابل ذکر فنڈ نہیں مل رہے جو ہماری بیرونی ادائیگیوں میں توازن پید ا کرسکیں۔

ماہر معیشت عمار خان نے بھی پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے امکان کو مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈ پاکستان آسانی سے کر لے گا اور اگلی ادائیگی میں ابھی کافی وقت ہے۔

انھوں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز کے انشورنش پریمیم یعنی سی ڈی ایس بڑھنے اور اس سے ڈیفالٹ کے امکان کے بارے میں کہا کہ اس کو غلط طریقے سے لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ خالصتاً ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اسے کسی طور پر دیوالیہ ہونے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

مالیاتی امور کے ماہر علی خضر نے کہا کہ سی ڈی ایس تو بڑھ گیا، جس کی وجہ سے ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان اپنی ادائیگیوں پر ڈیفالٹ کر سکتا ہے تاہم فوری طور پر اگلے مہینے والی پیمنٹ پر ایسا خطرہ موجود نہیں۔

تنویر ملک ,صحافی، کراچی