بیدر۔27؍جنوری۔(محمدامین نواز)۔کرناٹک حکومت کالجوں میں یونیفارم لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ حال ہی میں اُڈپی کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج میں طالبات کو حجاب پہننے پر کلاس میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ حکومت کا خیال ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں عالمگیر جذبہ ہونا چاہیے۔ یوم جمہوریہ 2022 سے ایک دن پہلے کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے اس سلسلے میں ایک بیان دیا۔آراگاگیانندر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر طلباء مذہب کی طرح برتاؤ کرتے ہیں تو یہ زیادہ اہم ہے کہ ہم کس قسم کا مستقبل بنا رہے ہیں؟

آراگا نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں ایک عالمگیر جذبہ ہونا چاہیے، کیونکہ ہم سب ہندوستانی ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام کالجوں میں یونیفارم لانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے بھی یہی اشارے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُڈپی کے کالج سے موصول ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اسکول ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (SDMC) نے 1985 میں اسکول میں یکساں کوویڈ متعارف کرایا تھا۔ اب تک اس کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حجاب کی اجازت اور عدالت کے فیصلوں پر بھی غور کیا جائے گا۔

پری یونیورسٹی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اسنیہل آر کے کے مطابق ابھی تک اس تجویز کے لیے کوئی سفارش تیار نہیں کی گئی ہے تاہم آنے والے تعلیمی سال سے اس پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی۔اپوزیشن نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ راجیہ سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ اور کے کے تعلیمی اداروں کے چیئرمین کے رحمان خان نے کہا کہ ہندوستان ثقافتی طور پر متنوع ملک ہے۔ ایسا قاعدہ اس کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے دلیل دی کہ متنوع معاشرے میں یکسانیت لانا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر ثقافتی پہلوؤں میں۔ خان نے سکھ برادری کی مثال دی کہ انہیں داڑھی رکھنے اور پگڑی پہننے کی اجازت ہے۔ خان نے اس کے لیے آرٹیکل 29 اور 26 کا حوالہ دیا۔