کرناٹک کے وزیر اُمیش کٹّی کی اچانک موت

518

بنگلورو: کرناٹک کے غذا اور عوامی ترسیل کے وزیر اُمیش کٹی کا منگل کو دیر رات گئے بنگلورو میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق 61 سالہ امیش کٹی نے سینے میں درد کی شکایت کی اور رات 10.30 بجے ڈالرز کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر باتھ روم میں گر گئے۔ انہیں فوری طور پر ایم ایس رمیا ہسپتال لے جایا گیا، تاہم، وہاں ان کا انتقال ہو گیا۔

وزیر اعلی بسواراج بومئی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اسپتال پہنچے۔ قائد حزب اختلاف سدھارمیا جو میسور میں تھے، وہ بھی بنگلورو کے لئے روانہ ہو گئے۔ وزیر کے جسد خاکی کو بدھ کی صبح بیلگاوی میں واقع ان کے آبائی گھر تلک واڑی لے جایا گیا۔ تلک واڑی کے شیو بساو نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کے لئے رکھا گیا۔

خیال رہے کہ امیش کٹی کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں سب سے سینئر منتخب نمائندے تھے۔ انہوں نے 1985 میں اپنے والد وشوناتھ کٹی کی موت کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا۔ امیش کٹی نے علیحدہ شمالی کرناٹک ریاست کی وکالت کی تھی اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ نئی ریاست کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔

کٹی بی ایس یدیورپا، ڈی وی سدانند گوڑا اور جگدیش شیٹار کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے ادوار میں کابینہ میں بھی وزیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے آٹھ بار چیکوڈی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کی اور اس دوران جنتا پارٹی، جنتا دل اور بی جے پی کا حصہ رہے۔ امیش کٹی نے 2004 میں کانگریس پارٹی کے امیدوار کے طور پر بھی الیکشن لڑا تھا۔