بنگلورو:ایک طرف جہاں پریاگ راج میں فجر کی اذان سے سنٹرل یونیورسٹی کی ایک وائس چانسلر نے اپنی نیند میں خلل پڑنے کا الزام عائد کیا ہے، وہیں دوسری طرف کرناٹک سے خبر آ رہی ہے کہ مسجدوں اور درگاہوں میں بوقت شب لاؤڈاسپیکر کےا ستعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے بڑھتی آلودگی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک گائیڈ لائن جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ درگاہوں اور مسجدوں میں بجنے والے لاؤڈ اسپیکروں پر رات 10 بجے سے لے کر صبح 6 بجے تک روک رہے گی۔ گویا کہ فجر کی اذان پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

وقف بورڈ نے صبح میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر بھی کئی طرح کی شرائط رکھی ہیں۔ جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ دن میں بجنے والے اسپیکروں کی آواز طے پیمانوں کے مطابق ہوگی اور لاؤڈاسپیکر کا استعمال اذان یا کوئی خصوصی اطلاع دینے کے لیے ہی کیا جائے گا۔ مذہبی پروگراموں کے دوران مسجدوں کے احاطہ میں موجود لاؤڈاسپیکر کا استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مختلف مواقع پر تیز آواز کرنے والے پٹاخوں پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : الہ آباد یونیورسٹی کی وی سی کو اذان پر اعتراض! نیند میں خلل پڑنے سے سر درد ہونے کی شکایت
گزشتہ 9 مارچ کو کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے ذریعہ جاری کردہ سرکلر کے مطابق درگاہوں اور مسجدوں کے آس پاس خالی پڑے مقامات پر درخت لگائے جائیں اور صاف صفائی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ مذہبی مقامات پر لوگوں کو سوشل ڈسٹنسنگ پر بھی عمل کرنا ہوگا اور مذہبی مقامات پر یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ بھکاری بڑی تعداد میں جمع نہ ہوں۔