کرناٹک میں ’سیکس سی ڈی‘ معاملہ کو لے کر ہنگامہ برپا ہے اور بی ایس یدی یورپا حکومت میں وزیر رمیش جارکیہولی نے اپنے اوپر الزام لگائے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق یدی یورپا نے ان کا استعفیٰ نامہ قبول کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے گورنر کے پاس بھیج دیا ہے۔ استعفیٰ نامہ میں رمیش جارکیہولی نے کہا ہے کہ وہ اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دے رہے ہیں اور سی ڈی معاملے کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’میرے خلاف الزام سچائی سے بہت دور ہے۔ غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے، میں اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘

 

واضح رہے کہ 2 فروری کو کرناٹک میں ایک سماجی کارکن دنیش کلّاہلّی نے سی ڈی جاری کی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزیر رمیش جارکیہولی نے ایک خاتون کو ملازمت دینے کے نام پر اس کا جنسی استحصال کیا۔ الزام کے مطابق کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ میں خاتون کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور اسے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ہی کرناٹک کی سیاست میں ہنگامہ برپا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے وزیر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور جارکیہولی کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

 

سماجی کارکن دنیش نے ایک بیان میں بتایا کہ خاتون کھل کر سامنے آکر شکایت درج نہیں کرانا چاہتی تھی اس لیے اس نے گزارش کی ہے کہ وہ شکایت درج کریں۔ پھر سماجی کارکن نے بنگلورو کے پولیس کمشنر کمل پنت سے رابطہ کیا۔ پولیس میں درج شکایت میں دنیش نے الزام لگایا ہے کہ ایک غریب گھرانے کی خاتون نے وزیر سے ایک شارٹ (چھوٹی) فلم بنانے کے لئے رابطہ کیا تھا۔ اس پر وزیر نے اس خاتون کا جنسی استحصال کیا اور اس کو یقین دلایا کہ اسے کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن میں نوکری دلا دے گا۔ دنیش نے یہ بھی الزام لگایا کہ جب وزیر کو پتہ لگا کہ خاتون کے پاس متنازعہ سی ڈی ہے تو انھوں نے خاتون اور اس کے گھر والوں کو دھمکی دی۔