کرناٹک کے کنڑضلع کی ملالی مسجد انتظامیہ نے وی ایچ پی کی عرضی خارج کرنے کا مطالبہ کیا

بنگلورو: کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں ملالی مسجد تنازعہ پر مسجد انتظامیہ نے مقامی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وی ایچ پی کی عرضی کو خارج کر دیا جائے۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے منگلورو کے نزدیک واقع ملالی شہر میں جمعہ کے روز مسجد کا سروے کرانے کے لئے ایک کورٹ کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا تھا۔ اسے چیلنج کرتے ہوئے مسجد انتظامیہ کمیٹی نے عرضی دائر کی ہے۔ ایڈیشنل سول کورٹ تھرڈ اس معاملہ پر سماعت کرنے جا رہا ہے۔ عدالت اس بات پر فیصلہ لے سکتی ہے کہ یہاں سروے کرایا جائے یا نہیں۔

دریں اثنا، زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے منگل کے روز کہا کہ ملک میں تاریخی غلطیوں کو درست کیا جانا چاہیے۔ جنوبی کنڑ ضلع میں ملالی مسجد تنازعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ اس سلسلے میں پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ کون سی عمارتیں ہندوؤں کی ہیں۔ اگر ہر کوئی اس بارے میں سوچے تو سب ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’ہمارے بزرگوں کے دور میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ مورخین اور آثار قدیمہ کے ماہرین کو حقائق معلوم کر کے رہنمائی کرنی چاہیے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔‘‘ خیال رہے کہ 21 اپریل کو یہ دعوی کیا گیا کہ ملالی مسجد کی تزئین کے دوران مندر کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ اس پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے بعد عدالت نے مسجد انتظامیہ کو کام روکنے کا حکم دیا ہے۔