کرناٹک:مسجد نما نظر آنے والے بس اسٹینڈ کو منہدم کرنےبی جے پی کی دھمکی

505

نگلورو: کرناٹک کے ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ کہتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا ہے کہ وہ ایک بس اسٹانڈ کو منہدم کردیں گے کیونکہ یہ مسجد جیسا نظر آتا ہے۔پرتاب سمہا نے جو میسورو۔ پوڈاگو لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، کہا کہ وہ خود اس بس اسٹانڈ کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیں گے جو میسورو۔اوٹی سڑک پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے۔ اس بس اسٹانڈ کی دو گنبدیں ہیں۔ درمیان میں ایک بڑی اور اس کے بازو ایک چھوٹی گنبد ہے۔ یہ مسجد ہی ہے میں نے انجینئرس سے کہا ہے تین چار دن کا وقت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو میں خود جے سی بی لاکر اسے منہدم کردوں گا۔پرتاب سمہا نے پہلے بھی فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کئے ہیں۔ حال ہی میں جب ریاست میں حجاب تنازعہ چل رہا تھا تو انہوں نے حجاب پوش طالبہ سے کہا تھا کہ وہ مدرسوں میں تعلیم حاصل کریں جس کیلئے حکومت نے علحدہ فنڈس مختص کئے ہیں۔ اسکول جانا بند کردیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہر طالب علم اچھی ملازمت حاصل کرنے کیلئے کالج آتا ہے لیکن یہ طالبات اپنے حجاب کی نمائش کیلئے کالج آنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم لوگ (طالبات) حجاب یا برقعہ یا ٹوپی اور پائجامہ پہننا چاہتے ہو تو اسکول جانے کے بجائے مدرسہ جانا شروع کردو۔

تمہارے جذبات کا احترام کرتے ہوئے حکومت نے مدرسے چلانے کیلئے علحدہ فنڈ مختص کیا ہے۔ جب ریاستی اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حجاب برسوں سے پہنا جاتا ہے جبکہ شال نئی چیز ہے تو سمہا نے کہا تھا کہ سدارامیا اپنا نام بدل کر ”سدارحیمیا“ رکھ سکتے ہیں۔

سمہا نے حکومت کرناٹک کی جانب سے سال 2015 سے منائی جارہی ٹیپوسلطان کی سالگرہ تقاریب پر بھی تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیپوسلطان صرف اسلام پسندوں کیلئے رول ماڈل ہوسکتے ہیں اور اس وقت کے چیف منسٹر سدارامیا ریاست میں جہادیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔