کرناٹک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گئو کشی پر پابندی کا سخت ترین قانون جاری ہوا ہے۔ انسداد گئو کشی بل 2020 اب مستقل قانون بن چکا ہے۔ جی ہاں ریاست کے گورنر واجو بھائی والا کے دستخط کے بعد ریاستی حکومت نے گزیٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق انسداد مویشی ذبیحہ اور تحفظ ایکٹ 2020 کا باقاعدہ اعلان کیا گیا  ہے۔ 15 فروری 2021 کو جاری گزیٹ نوٹیفیکیشن کے مطابق اس قانون کو 12 فروری 2021 کو گورنر کی دستخط حاصل ہوئی ہے۔ اسطرح گئو کشی پر پابندی کا قانون سال 2021 کا پہلا قانون قرار پایا ہے۔اس قانون کے مطابق گائے، بیل، سانڈ، بچھڑا اور 13 سال سے کم عمر کی بھینس، بھینسا کے ذبیحہ پر پابندی عائد رہے گی۔ یعنی صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس اور بھینسا کو ذبح کرنے کی اجازت ہوگی۔ انسداد گئو کشی قانون میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے جوڑے تمام جانوروں کے طور پر بتائی گئی ہے۔ بیف کی تعریف مویشیوں کا گوشت کسی بھی شکل میں بتائی گئی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں