نئی دہلی۔حکومت نے جمعرات کے روز فضائی سفر کے کرایوں میں 5600روپئے تک کے اضافہ کا اعلان کیاہے اور فضائی سفر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہہ سے فضائی سفر کے کرایوں میں اضافہ کیاگیاہے۔

وزرات سیول ایویشن کے ایک آرڈر کے مطابق یہ معمول کی تبدیلی ہے۔ ایم او سی اے کا کہنا ہے کہ ”اونچی قیمت کا بینڈ180-120منٹ کی پرواز جس کی مقرر قیمت18600ہے میں 30فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے24,200کردیاگیاہے جو 5600کا روپئے کا اضافہ ہے۔کم فاصلے کی پرواز میں 10 فیصد کا اضافہ کیاگیاہے جو 200روپئے تک کا ہے“۔

مذکورہ حکومت نے کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کی ضرورت اویویشن مارکٹ کی شروعات کے سبب ہے۔ منسٹری کا کہنا ہے کہ”ہوا بازی کے شعبہ میں حسب ضرورت قیمتوں میں اضافہ اور کمی کا کام ملک میں کیاگیاہے‘ اور اس پر عمل31مارچ تک کیاجائے گا یا پھر اگلے احکامات پر عمل آوری کی جائے گی“۔

گھریلو پروازوں کے متعلق بھی وزرات نے نئے کرایوں کا اعلان کیاہے جو کم سے کم2,200سے شروع ہوکر 7800پر ختم ہو ں گے جس میں بالترتیب 2000اور6000روپئے کا اضافہ کیاگیاہے۔

زیادہ قیمت کے کرایہ 6500اور18600کے بجائے 7200اور24,200تک ہوں گے۔حکومت نے کویڈ19وباء کے دوران فضائی سفر پر ایک ہی قیمت مقرر کی تھی مگر اب اس کو مارکٹ کی دھیمی شروعات کی وجہہ سے ہٹادیاگیاہے۔

کرونا وائرس کی وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لئے 25مارچ کو حکومت کے اعلان کردہ لوک ڈاون کے بعد تمام کمرشل پروازوں پر روک لگادی گئی تھی۔ ملک میں گھریلوپروازوں کی شروعات 25مئی سے کی گئی ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں