• 425
    Shares

اسلام آباد : سندھ حکومت نے کراچی میں 31 جولائی سے 8 اگست تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کے روز سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے فیصلے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ’جو ویکیسن نہیں لگائے گا تو اسے 31 اگست کے بعد تنخواہ نہیں دی جائے گی۔‘وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’ایکسپورٹ انڈسٹری کھلی رہے گی، ہم اگلے ہفتے سرکاری دفاتر بھی بند کر رہے ہیں۔‘فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران تمام مارکیٹیں بند رہیں گی لیکن فارمیسی کھلی رہے گی۔سندھ بالخصوص کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے جس کے تحت شہر بھر میں ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں بند رہیں گی۔کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی شرح 30 فیصد تک جا پہنچی ہے جو ملک بھر میں مریضوں کی شرح سے کئی گنا زیادہ ہے، اسی تناظر میں طبی ماہرین کی آرا کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر میں مکمل لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جمعے کو کورونا کی چوتھی لہر سے بچاؤ کے حوالے سے صوبائی کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس کی سربراہی کی جس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ’کورونا وائرس تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے بچاؤ کے کیئے کوویڈ ایس او پیز پر لازمی طور پر عمل کیا جائے۔ عوام کے تعاون سے ہی کورونا وائرس پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں