نئی دہلی: دہلی کے تیاگراج اسٹیڈیم میں کھلاڑیون کا داخلہ روک کر کتے کو سیر کرانا آئی اے ایس جوڑے کو بھاری پڑ گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے آئی اے ایس جوڑے سنجیو کھیروار اور رنکو دُگا کا تبادلہ کر دیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے یہ کارروائی سنجیو کھیروار اور ان کی اہلیہ رنکو دگا کی جانب سے تیاگراج اسٹیڈیم میں سہولیات کے غلط استعمال سے متعلق میڈیا رپورٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد کی گئی۔

مرکزی وزارت داخلہ کے جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق سنجیو کھیروار کا لداخ اور ان کی اہلیہ رنکو دگا کا اروناچل پردیش تبادلہ کیا گیا ہے۔ دونوں 1994 کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ خیال رہے کہ لداخ اور اروناچل پردیش کا فاصلہ تقریباً 3500 کلومیٹر ہے۔ یعنی جو میاں بیوی ایک ہی شہر میں تعینات تھے وہ اب ایک دوسرے سے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کے فاصلہ پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔

دہلی حکومت کے زیر انتظام تیاگراج اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں اور کوچوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں وقت سے پہلے تربیت مکمل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے دہلی کے پرنسپل سکریٹری (ریونیو) سنجیو کھیروار اپنے کتے کو سیر کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

ایک کوچ نے بتایا کہ پہلے ہم تقریباً 8.30 بجے تک ٹریننگ کرتے تھے لیکن اب ہمیں 7 بجے ہی میدان چھوڑنے کو کہا جاتا ہے تاکہ افسر اپنے کتے کو سیر کرا سکیں۔ اس کی وجہ سے ہماری تربیت اور ورزش کے معمولات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔

سنجیو کھیروار نے خود پر عائد الزامات کی تردید کی تھی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بعض اوقات اپنے پالتو کتے کو اسٹیڈیم میں سیر کرانے لے جاتے ہیں لیکن بقول ان کے اس سے کھلاڑیوں کی پریکٹس متاثر نہیں ہوتی۔

تیاگراج اسٹیڈیم 2010 کے کامن ویلتھ گیمز کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور یہاں قومی اور ریاستی سطح کے کھلاڑیوں اور فٹ بال کھلاڑیوں کے لیے پریکٹس کی جگہ ہے۔

تیاگراج اسٹیڈیم کا واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دہلی میں واقع تمام اسٹیڈیم کھلاڑیوں کی پریکٹس کے لئے اب رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے۔