n پڈوچیری میں نارائن سامی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام n لفٹننٹ گورنر کو استعفیٰ پیش

پڈوچیری : پڈوچیری کے چیف منسٹرٰ وی نارائن سامی پیر کو اسمبلی میں اکثریت ثابت نہیں کرسکے ۔ چیف منسٹر نارائن سامی اعتماد ووٹ کی تحریک پیش کرنے کے بعد تقریباًایک گھنٹہ تک ایوان سے خطاب کرتے رہے اور پھر تمام ممبروں کے ساتھ واک آؤٹ کر گئے ۔اس کے بعد اسمبلی اسپیکر وی شیوکولانتھو نے اعلان کیا کہ مسٹر نارائن سامی کی جانب سے پیش تحریک عدم اعتماد کا ووٹ گرگیا ہے اور ان کی حکومت اکثریت سے محروم ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد ایوان کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہوئے نارائن سامی نے کہا کہ مرکزی حکومت اور سابق لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی کی مبینہ مداخلت کے باوجود ریاست کی کانگریس حکومت نے متعدد اسکیمیں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے حکومت گرانے کے منصوبوں کے باوجود وہ پانچ سال کی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی حکومت پڈوچیری کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے حق میں ہے اور اس کے لئے قانون ساز اسمبلی میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں اور مرکزی حکومت کو بھیجی گئیں۔ انہوں نے ذاتی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اوروزیر داخلہ امت شاہ سمیت متعدد مرکزی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت حکومت کا رخ پڈوچیری کو ریاست کا درجہ نہ دینے کا تھا۔انہوں نے کہا کہ پڈوچیری کو اس ارادے کے ساتھ ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکز کی جانب سے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اختیارات حاصل کرکے یہاں حکومت نہ کرسکے ۔ نارائن سا می نے پڈوچیری کو فینانس کمیشن میں شامل کرنے ، مرکز کو جی ایس ٹی معاوضہ فراہم کرنے میں ناکامی ، ساتویں پے کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے خرچ کی جانے والی رقم کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں بھی بات کی۔انہوں نے ریاست میں اپنی حکومت گرانے کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اروناچل پردیش ، منی پور اور گوا میں جو کیا وہ اب پڈوچیری میں کیا جارہا ہے ۔پارٹی کے ممبران اسمبلی کے استعفیٰ پر نارائن سامی نے کہا کہ انہیں تنظیم سے وفادار رہنا چاہئے تھا لیکن مجبوری اور خطرے کی وجہ سے مستعفی ہوگئے ۔ انہوں نے اس کو ‘جمہوریت کی جسم فروشی’ قراردیا۔ً اس طرح کانگریس کے ہاتھوں سے ایک اور ریاست نکل گئی ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں