نئی دہلی، 28 جنوری (یو این آئی) کسان تحریک کے سلسلے میں چل رہے الزام در الزام کے درمیان کانگریس سمیت اہم اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعرات کو یہاں صحافیوں کو بتای اکہ 16 سیاسی پارٹیوں نے کل صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا بیان کاری کیا ہے۔ اس کس اہم سبب گزشتہ سیشن میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں زراعت سے متعلق تین قوانین کو حکومت نے طاقت کے استعمال سے پاس کرانا ہے۔ کل صدر رام ناتھ کووند کے خطاب کے ساتھ ہی بجٹ اجلاس شروع ہورہا ہے۔


اپوزیشن پارٹیوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو من مانے طریقے سے نافذ کیا ہے جس سے ملک کی 60 فیصد آبادی پر روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے کروڑوں کسان اور کھیت مزدور براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ دلی کی سرحدوں پر کسان گزشتہ 64 رن سے دھرنا مظاہرہ کررہے ہیں اور 155 سے ز یادہ کسان اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔


اس بیان پر مسٹر آزاد کے علاوہ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری ، راجیہ سبھ میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، دراوڑ منیتر کژگم کے ٹی آر بالو، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن، شیو سینا کے سنجے راوت، سماجوادی پارتی کے رام گوپال یادو، راشٹریہ جنتاپارٹی کے منوج کمار جھا، مارکسی کمیونسٹ پارتی کے الاورم کریم، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بنے وسوم، آئی یو ایم ایل کے پی کے کنجھالی کٹی، آر ایس پی کے این کے پریم چندر، پی ڈی پی کے نذیر احمد لاوے، مروملارچی دراوڑ منیتر کژگم کے وائیکو، کیرلا کانگریس کے تھامس چاجیکدان اور آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے بدرو دین اجمل نے دستخظ کئے ہیں۔