کلبرگی۔ مجلس اتحا د المسلمین کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بی ٹیم بلائے جانے پر ردعمل پیش کرتے ہوئے پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی نے کہاکہ ان کا تعلق”کسی سے نہیں صرف عوام سے ہے“۔ کلبرگی میں ایک جلسہ عام سے ہفتہ کے روز خطا ب کرتے ہوئے اویسی نے کہاکہ ”ایم ائی ایم کے خلاف متعدد الزامات لگائے جارہے ہیں۔

مغربی بنگال میں ہمارے الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد مذکورہ بینڈ باجا پارٹی جس کو کبھی کانگریس کے نام سے جانا جاتا تھا‘ اس نے کہنا شروع کردیاکہ ہم بی جے پی کی بی ٹیم ہیں۔ ممتا نے بھی ایسا کہنا شروع کردیاہے۔

میں واحد شخص ہوں جس کے متعلق وہ بات کرسکتے ہیں؟ میرا تعلق کسی سے نہیں صرف عوام سے ہے“۔

کرناٹک میں کانگریس کے اراکین اسمبلی اپنے پارٹی بدل کر بی جے پی میں شامل ہوگئے‘ تم نے کیاہے؟۔ایسا کرنے سے قبل انہوں نے مجھ سے کہاتھا؟بی جے پی میں شامل ہونے والے تمام لوگوں میں سے۔

تمہیں کوئی نظر نہیں آیا۔ و ہ اب منسٹر بن گئے ہیں۔ مگر تم انہیں دیکھ نہیں پارہے ہوں۔ نہ ممتا او رنہ ہی کانگریس کوئی بھی اس پر نہیں بول رہا ہے‘ جب بات اے ائی ایم ائی ایم پرآتی ہے تو وہ کہتے ہیں بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور جب تمہاری پارٹی کی بات آتی ہے تو ان کے اراکین اسمبلی کو گمراہ کیاگیاہے“۔

حیدرآباد ی نژاد اویسی جس کی پارٹی نے 2020کے بہار اسمبلی الیکشن میں پچھلے سال اچھامظاہرہ کرتے ہوئے پانچ سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی نے اعلان کیاہے کہ یہ اے ائی ایم ائی ایم مغربی بنگال کے اسمبلی الیکشن میں مقابلہ کرے گی۔

سیاسی جماعتیں بشمول کانگریس‘ ترنمول کانگریس نے اے ائی ایم ائی ایم کو بی جے پی کی بی ٹیم قراردیاہے۔ جنوری 30کے روز منعقدہ مذکورہ جلسہ عام سے خطاب کے درایں اثناء نے مہاتماگاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ”آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد“ قراردیاہے۔

انہوں نے ساورکر کا بھی مہاتماگاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کی بات کرتے ہوئے جسٹس کپور کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس لیڈر کی بھی گاندھی کے قتل کے الزام میں گرفتاری عمل میں ائی تھی مگر کانگریس نے صحیح سمت جانچ نہیں کی تھی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں