کانپور تشدد: بابا بریانی کے مالک زیر حراست، ظفر ہاشمی کی مالی معاونت کے الزامات

کانپور: اہانت رسولؐ کے خلاف 3 جون بروز جمعہ ہونے والے پرتشدد احتجاج کے سلسلہ میں پولیس نے مشہور ریستراں بابا بریانی کے مالک مختار بابا کو حراست میں لیا ہے۔ ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا الزام ہے کہ مختار بابا نے تشدد کے کلیدی ملزم ظفر ہاشمی کی مالی معاونت کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی جلد ہی تشدد کےک کچھ اور ملزمان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں پولیس کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ظفر ہاشمی نے کئی ناموں کا انکشاف کیا ہے اور بابا بریانی کا نام بھی معالی معاونت کے تعلق سے سامنے آیا ہے۔ بابا بریانی پر الزام ہے کہ انہوں نے پتھربازی کے لئے بلائے گئے افراد کے کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔ بابا بریانی پر پہلے ہی یہ الزام ہے کہ انہوں نے ’دشمن جائیداد‘ پر قبضہ کر کے بریانی کی دکان کھولی ہے۔

خیال رہے کہ کانپور میں گساخ رسولؐ نوپور شرما کے خلاف بعد نماز جمعہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔ تاہم اسی دوران تشدد پھوٹ پڑا اور دو طبقوں میں پتھربازی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال کر کے حالات قابو میں کئے۔ پولیس اس سلسلہ میں لگاتار کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے۔ مگر پولیس پر الزام ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ طور پر کارروائی کر رہی ہے۔کانپور تشدد کے سلسلہ میں پولیس اب تک 13 ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور 57 افراد کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔ مبینہ کلیدی ملزم ظفر حیات ہاشمی اور اس کے ساتھی کانپور جیل سے دوسرے اضلاع کی جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔