کالج کے لان میں نماز ادا کرنے پر پروفیسر کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

0 11

شہر علی گڑھ کے ایک کالج میں نماز ادا کرنے پر پروفیسر کو ایک ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔نیشنل ہیرالڈ انڈیا کے مطابق شری سرورشنے کالج نے یہ فیصلہ منگل کو پروفیسر ایس آر خالد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کیا جس میں وہ کالج کے لان میں نماز ادا کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی دائیں بازو کے سخت گیر ہندو نوجوانوں نے پروفیسر ایس آر خالد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔

کالج کے ایک ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مورچہ(بی جے پی ایم) کے کچھ نوجوان رہنماؤں نے پروفیسر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور کھلےعام نماز ادا کر کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ’اس معاملے کی انکوائری کی جا رہی ہے۔‘

علاوہ ازیں ایک شخص نے کوارسی پولیس سٹیشن میں بھی پروفیسر ایس آر خالد کے خلاف شکایت درج کرائی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کالج کی انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کارروائی کریں گے۔ایک طالب علم رہنما دیپک شرما نے کہا ہے کہ پروفیسر کی جانب سے کالج کے اندر نماز ادا کرنا پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔خیال رہے کہ انڈیا کے مختلف شہروں میں حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اکثر ایسے واقعات میں دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کا نام آتا ہے۔