نئی دہلی : سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس کے ذریعہ مرکز اور ریاستوں کو ایسی ہدایت دینے کی استدعا ہے کہ کالاجادو، توہم پرستی اور ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرانے کے معاملوں پر قابو پایا جائے۔ ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی داخل کردہ پٹیشن میں کہا گیا ہیکہ لالچ دیکر پھنسانے جیسی چالوں کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانا نہ صرف دستوری آرٹیکلس 14، 31، 25 کے منافی ہے بلکہ سیکولرازم کے اصولوں کے مغائربھی ہے جبکہ سیکولرازم دستور ہند کے بنیادی ڈھانچہ کا لاگو حصہ ہے۔ درخواست گزار کا بیان ہیکہ مرکز اور ریاستیں کالا جادو اور توہم پرستی کی لعنت پر قابو پانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ وہ دھوکہ بازی کے ساتھ تبدیلی مذہب کو بھی نہیں روک پائے ہیں حالانکہ آرٹیکل 51A کے تحت یہ ان کا فرض ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں