• 425
    Shares

افغانستان میں پندرہ اگست کو طالبان کے غلبہ حاصل کرنے کے بعد 26 اگست کو پہلی مرتبہ ہونے والے خود کش دھماکے جن میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 90 افراد ہلاک ہوئے اس کی ذمہ داری نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ دولت اسلامیہ کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ کابل کے ہوائی اڈے پر طالبان اور امریکی فوج کی سخت ترین سیکیورٹی میں بھی اپنی کارروائیاں سر انجام دے سکتے ہیں۔

 

پندرہ اگست کو کابل پر قبضے کے بعد سے طالبان کابل میں امن و اماں کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کر رہے ہیں۔انھوں نے کابل کی سڑکوں پر اپنے انتہائی تربیت یافتہ کمانڈو جن میں ’بدری 313‘ اور جیش الفتح شامل ہیں کا گشت کروایا تاکہ شہر میں تحفظ کا احساس پیدا کیا جا سکے۔ کابل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کی ناکامی کا ذمہ دار طالبان امریکی فوج کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہوائی اڈے کی سیکیورٹی امریکی فوج کے ہاتھوں میں ہے۔کابل کے ہوائی اڈوں پر حملے سے دولت اسلامیہ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ امریکہ اور طالبان دونوں حملوں کی پیشگی وارننگ کے باوجود ان کو روکنے کے اہل نہیں ہیں۔لیکن ان حملوں سے دولت اسلامیہ پر جہادی حلقوں کی طرف سے تنقید بھی کی جا رہی ہے اور انھیں احمق قرار دینے کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہے ہیں۔

شدید دشمن

دولت اسلامیہ اور اس کی مقامی تنظیم خراسان صوبے (آئی ایس کے پی یا آئی ایس آئی ایس کے) اور طالبان ایک دوسرے کے دیرینہ دشمن ہیں۔افغان طالبان نے افغانستان میں دولت اسلامیہ کو کمزور کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک طرف طالبان کی کارروائیوں اور دوسری طرف امریکہ کی پشت پناہی میں افغان سکیورٹی فورسز کے حملوں نے سنہ 2019 میں دولت اسلامیہ کو مشرقی صوبے ننگر ہار میں اپنے مضبوط گڑھ سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے دولت اسلامیہ طالبان پر امریکہ سے ساز باز کا الزام عائد کرتی ہے۔دولت اسلامیہ اپنے مدمقابل کی حالیہ سیاسی اور فوجی کامیابی پر شدید ناخوش ہے۔ دولت اسلامیہ کی ’خلافت‘ ختم ہو گئی ہے جبکہ طالبان اپنی امارات تشکیل دے رہے ہیں اور وسیع تر جہادی حلقوں اور اسلامی دنیا میں ان کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

 

لہذا دولت اسلامیہ افغانستان میں طالبان کی طرف سے استحکام اور امن و اماں قائم کرنے کے دعوؤں کو غلط ثابت کرنے کے موقعوں کی تلاش میں ہیں۔ کابل کے ہوائی اڈے پر مغربی شہریوں اور غیر ملکی فوجیوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی ان کے لیے فائدہ اٹھانے کا ایک اچھا موقع تھا۔

افغانستان میں جہاد کا ایک ’نیا دور‘

افغانستان میں 19 اگست کو پیش آنے والے واقعات پر دولت اسلامیہ کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ اس کے جنگجو جہاد کا ایک نیا دور شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے طالبان کی مذمت کی۔ اگست کی 26 تاریخ کو انھوں نے ملک میں جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا۔پروپیگنڈا کے محاذ پر دولت اسلامیہ طالبان کی مذہبی ساکھ کو خاص طور پر جہادی حلقوں اور عام طور پر وسیع تر اسلامی دنیا میں نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھیں امید ہے کہ اس طرح وہ طالبان کی صفوں میں موجود شدت پسند عناصر جو ان کی موجودہ حقیقت پسندانہ پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا کے ’پرتعیش ہوٹل‘ میں ہونے والے خفیہ معاہدوں کے بعد امریکہ نے افغانستان کو چاندی کی پیلٹ میں رکھ کر طالبان کو پیش کر دیا۔انھوں نے اپنے درینہ دشمن کو خطے میں واشنگٹن کی اصل کٹ پتلی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جو واشنگٹن کے کہنے پر خطے کے ’اصل جہادیوں‘ کے خلاف لڑے گا۔دولت اسلامیہ جو عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ پر پھلتی پھولتی ہے ہو سکتا ہے اس بات سے بھی پریشان ہو کہ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کی تمام تر توجہ طالبان پر ہے اور وہ کابل ہوائی اڈے کی طرح کی بڑی کارروائیاں کرنے کا موقعہ ڈھونڈ رہی ہو تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں جگہ بنا سکیں۔

سنہ 2019 میں طالبان اور افغانستان کی سرکاری فوج کی کارروائیوں سے دولت اسلامیہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی تھی لیکن ایک سال بعد ہی دوبارہ یہ اپنے آپ کو منظم کرنے میں کامیاب ہو گئی اور سنہ 2021 میں اس نے اپنی کارروائیاں شروع کر دیں۔لیکن افغانستان میں اس کی کارروائیوں میں تیزی سے اونچ نیچ آتی رہی۔ اس سال کے ابتدائی مہینوں کے برعکس حالیہ دونوں میں یہ افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کر پائی تھی۔ہوائی اڈے پر کارروائی سے دولت اسلامیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی اس قابل ہے کہ وہ انتہائی محفوظ جگہوں پر بھی دہشت گردی کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔

القاعدہ مشکل میں ہے

کابل کے ہوائی اڈے پر حملوں سے القاعدہ اور اس کے حامیوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ایک طرف تو القاعدہ ان حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت جن کی وہ شدید دشمن ہے خوشی منانا چاہ رہی ہو۔ لیکن دوسری طرف یہ حملہ القاعدہ کے ایک مخالف گروہ دولت اسلامیہ نے کیا ہے اور اس کے القاعدہ کے اتحادی طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔القاعدہ کے حامیوں نے سوشل میڈیا کے پیغام رسانی کے ایپ ٹیلی گرام پر دولت اسلامیہ کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن القاعدہ کے ایک سرکردہ حامی وراث القسم نے کہا ہے کہ جس حملے میں امریکی ہلاک ہوئے ہوں اس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں بیشک یہ ان کی مخالف جہادی تنظیم ہی کی طرف سے کیوں نہ کیے گئے ہوں۔اسی دوران کچھ حقیقت پسند جہادیوں جن میں الذھبی جو شام میں موجود حیات تحریر الشام کے حامی ہیں انھوں نے دولت اسلامیہ کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد افغانستان میں امن قائم کرنے اور اسلامی امارات کی بنیاد رکھنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ واضح طور پر دولت اسلامیہ کی طالبان پر کامیبوں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں حاصل ہونے والی شدید جلن کا نتیجہ ہے۔ایک اور حقیقت پسند مذہبی رہنما الحسن بن علی الکتانی نے دولت اسلامیہ کو احمق اور لا پرواہ قرار دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ دولت اسلامہ نے اسلام اور مسلمانوں کو صرف نقصان ہی پہنچایا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔