کابل :پابندیوں کے بعد مغربی تعلیم یافتہ خواتین نے گھروں کے تہہ خانوں میں جم کھول لیے

147

افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے خواتین کے پارکوں اور جم میں جانے پر عاید کی گئی پابندی کے بعد خفیہ تہہ خانوں میں جم قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ لیلی احمد نے جم جا کر ورزش کی شوقین خواتین کے لیے ایسا ہی ایک خفیہ جم قائم کر دیا ہے۔

اس جم میں کھڑکیوں سے کوئی روشنی آتی ہے۔ نہ کوئی میوزک بج رہا ہے۔ یہاں آنے والی خواتین عقبی دروازے سے آتی ہیں۔
طاالبان کی طرف سے پچھلے ماہ خواتین کے جم جانے پر پابندی لگای تو اس پر بین الاقوامی برادری اور فورمز کی طرف سے سخت تنقیقد کی گئی تھی۔ لیکن خواتین نے اپنے راستے بنانا شروع کر دیے ہیں۔
41 سالہ لیلیٰ احمد ایک طلاق یافتہ خاتون ہیں۔ ان کا کہنا ہے میں باڈی بلڈنگ اور یوگا میں کوالیفائیڈ ہوں ۔ طالبان کے فیصلے کے بعد خواتین کے لیے اکیلے پارکوں میں جانے پر پابندی حتی کہ ہوٹلوں اور ثقافتی تقریبات میں جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس لیے یہ تہہ خانوں میں قائم جم ہمارے لیے روشن کی کرن ہیں۔

تھامسن رائٹرز فاونڈیشن سے بات کرتے ہوئے لیلیٰ احمد نے کہا ‘ اگست 2021 میں جب سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے بچیوں کے ہائی سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ خواتین کو ملازمتوں سے روک دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی من پسند کی ڈریسنگ پر بھی قدغنیں لگا دی گئی ہیں۔’ اقوام متحدہ نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ پابندیاں انسانیت کے خلاف ایک جرم کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو اسلام میں دیے گئے ہیں۔

لیلیٰ احمد کے جم خانے پر آنے والی گاہکوں میں اقوام متحدہ کے سٹاف کا بھی حصہ ہیں، حکومتی اہلکار بھی ہیں۔ معلمات ، پولیس میں ملازمت کرنے والی خواتین ہیں ، صحافی خواتین اور کاروباری خواتین سب شامل ہیں۔

اسی طرح ملک کے طول و عرض میں خواتین اپنے طور پر بیوٹی پارلر ، سکول اور زیر زمین کاروباری مراکز قائم کررہی ہیں۔

لیلیٰ احمد کے جم پر آنے والی ایک گااہک افغانی عورت نے کہا ‘یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم اپنے پچھلے برسوں میں واپس چلی جاتی ہیں۔ اور خود کو انہی حالات میں زندہ رکھتی ہیں۔’ یہاں آنا ہمارے لیے ایک تھراپی کی طرح ہےہم یہاں گانا بھی بجا سکتی ہیں۔ ڈانس بھی کر سکتی ہیں البتہ اب ہیڈ فون لگا کر گانے پر ڈانس کرتی ہیں۔

سزا کا خوف : جم میں اعلیٰ درجے کی مشینیں لگائی گئی ہیں۔ بڑی سکرین لگائی گئی ہے۔ یہ سلسلہ مغربی تعلیم یافتہ اور ترقی پسند خواتین میں کافی فروغ پا رپا ہے۔ یہ سلسلہ ایک دہائی سے افغانستان کے مختلف شہروں میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکی حمایت یافتہ اشرف غنی اور حامد کرزئی کی حکومتیں تھیں۔

ماضی میں کابل کی رہائشی افغان عورتیں ٹائیڈز اور لیگیز میں بھی جم جا سکتی تھیں۔ اپنی مرضی کے لباس میں بھی جاسکتی تھیں مگر اب طالبان کی وجہ سے انہی پورے حجاب کے ساتھ باہر نکلنا ہوتاہے اس لیے جم میں بھی حجاب کے ساتھ ہی آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی سپورتس کٹ تھیلوں میں چھپائی ہوتی ہیں۔ جم آنے والی یہ خواتین میں سے اکثر دوسروں کو اپنی اس سرگرمی کے بارے میں نہیں بتاتی ہیں۔

لیلیٰ احمد نے کہا ‘ واقعہ یہ ہے کہ ہم جم کی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے نہ صرف طالبان رجیم کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں بلکہ روایتی افغان معاشرے کے خلاف بھی جنگ کر رہی ہیں۔ کیونکہ افغان کلچر عورت مخالف کلچر ہے۔ یہ ایک پدر سری معاشرہ ہے۔ جہاں مغربی دانس کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ لیکن جم میں ہم یہ سب کر رہے ہیں اور پارٹیاں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

جب سے طالبان کی حکومت آئی ہے خواتین کے جم بند کر دیے گئے ہیں جبکہ مردوں کے جم کھلے رکھے گئے ہیں۔ واضح رہے ماہ نومبر میں طالبان حکومت نے جم بند کرنے کے احکامات دیے تھے، تاہم ابھی نہیں معلوم ہے کہ جم کھلے رکھنے والی خواتین کو کیا سزا مل سکتی ہے۔ البتہ انہوں نے اپنی پرانی حکومت کی طرح کوڑے مارنے کی سزا شروع کر دی ہے۔

لیلیٰ احمد نے کہا ‘اب ہم خوفزدہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود میرے زیر زمین سرگرم جم میں آنے والی خواتین گاہکوں میں کوئی کمی نہیں ہو ئی ہے۔ وہ اب بھی یہان آنے کے لیے بہت کمٹڈ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم ایک دوسری کی آنکھوں میں چھپا ہوا خوف ضرور دیکھ سکتی ہیں۔

‘میں ناراض ہوں’ یہ رمزیہ احمد ہے ، جو باکسنگ بیگ پر مکے لگا رہی ہیں۔ ان کے مکے ہوا میں اڑ کر بیگ میں پیوست ہورہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں تصور کرتی ہوں میں یہ اس طرح طالبان کا خاتمہ کر رہی ہیں۔ ان کے منہ پر مکے رسید کر رہی ہیں۔

ایک نجی گھر کے اندر وہ ہفتے میں دو دن آتی ہیں۔ جہاں خواتین اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے ویٹ لفٹنگ کرتی اور مشینوں کے ذریعے ورزش کرتی ہیں۔ رمزیہ کہتی ہے ‘جب میں سائیکل چلاتی ہوں میں سوچتی ہوں جیسے میں اگست 2021 کے وقت سے بہت پیچھے چلی گئی ہوں۔

27 سالہ رمزیہ کا کہنا ہے ‘ میں باکسنگ اس لیے کرتی ہوں کہ میں غصے میں ہوں اور اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتی ہوں باکسنگ سیکھ کر میں خود کو مضبوط کر رہی ہوں۔’ میں اتنا مضبوط ہونا چاہتی ہوں کہ ان کے منہ پر مکا مار سکوں جنہوں نے ہمیں حقوق سے محروم کیا ہے۔

رمزیہ اس سے قبل ایک اچھی تنخواہ پاا رہی تھی ۔ وہ ایک میڈیا ٹرینر کے طور پر لڑکیوں کی تربیت کرتی تھی۔ اب یونیورسٹیوں کے کھلنے پر وہ سول انجیئینرنگ کرنا چاہتی ہے۔ گھروں میں بچیوں کو ریاضی پڑھا کر وہ بہت تھوڑا کم سکتی ہے۔

اگرچہ طالبان کے آنے کے بعد وہ خوف کی حالت میں ہے مگر جم جا کر اپنی پریشانی کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ رمزیہ کے بقول ‘ ہم نے کوئی جرم یا گناہ نہیں کیا ہے۔ یہ ایک نارمل سرگرمی ہے ۔ طالبان اور افغان معاشرے کو اسے سمجھنا ہو گا۔

مونیکا یوسف پہلے اسلامی تعلیمات کی استاد تھی۔ جب طالبان نے اس کا سکول بند کیا تو اس نے ورزش کے آلات جمع کیے اور گھر میں کام شروع کر دیا۔ یوں 36 سالہ مونیکا یوسف نے گھر میں جم کھول لیا۔

مونیکا یوسف کے مطابق ‘ یہ جم ہمیں مضبوط بھی بنا رہا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے دکھ اور غصے کو سمجھنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ ہماری نسل نے مساوات کے لیے جنگ کی تھی ہم اس اس سے پیچھے نہیں ہٹین گے۔

مونیکا یوسف اس سے پہلے 200 ڈالر ماہانا تک کما لیتی تھی، اب صرف 60 ڈالر کمارہی ہے۔ اس کے گاہکوں کی اکثریت بے روز گار ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں لیلیٰ احمد ماہانہ 350 ڈالر کماتی تھی اب اس کی آمدنی محض 100 ڈالر رہ گئی ہے۔

ان کا سب سے بڑا خوف جم کے بند کیے جانے سے متعلق ہے۔ اس سے بھوکوں مرنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔