کابل: مسجد میں بم دھماکہ، 21 اموات

480

کابل:افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافاتی علاقے خیر خانہ میں بدھ کی شام ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 33 کے قریب زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکا اس وقت ہوا، جب مسجد میں نماز ادا کی جارہی تھی۔ طالبان کے ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ دھماکے کا ہدف مشہور مذہبی سکالر مولوی امیر محمد کابلی تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کچھ طالب علموں کے ساتھ ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق گذشتہ تین ماہ کے دوران افغان دارالحکومت میں تین ممتاز مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور دیگر صوبوں میں بھی قتل کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدیقیہ مسجد میں ہونے والے حملے کے زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

اے ایف پی نے کابل پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات ہونے والے اس حملے میں اب تک 21 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دھماکہ مسجد میں نصب بم کے پھٹنے سے ہوا۔‘ اس سے قبل اسے خودکش حملہ رپورٹ کیا گیا تھا۔کابل میں موجود سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک ٹویٹ میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔