• 425
    Shares

نئی دہلی۔مذکورہ عمران خان حکومت جو پہلے ہی معاشی ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی گرے فہرست سے باہر آنے سے قاصر ہے‘ کے لئے ائی ایس ائی ایس۔ کے کی جانب سے کابل میں انجام دئے گئے جڑواں بم دھماکے جس میں کم از کم100لوگوں کی جان گئی ہے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں پریشانی کی وجہہ بن رہا ہے۔

امریکی افواج کے انخلاء کے پیش نظر افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کی وجہہ سے اسلام آباد شدید ”انتشار“ کے گرفت میں ہے مگرخدشات ”گہری ہیں“ کیونکہ پھر ایک مرتبہ دہشت گردوں کے ساتھ اس کے روابط روشن ہوئے ہیں۔

پاکستان کی تھینک ٹینک تبادلب کے تخمینہ کے مطابق سال2008اور2009کے درمیان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کی وجہہ سے ایک اندازے سے پاکستان کو 38بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

اس فہرست سے باہر آنے کی اسلام آباد کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے‘ یہ امید کرے گا کہ طالبان 2.0مختلف ہے پہلے کے اوتار سے الگ پیش کرے گی وہ مزید خود مختار اور شمولیت پسند چہرے پیش کرے گا۔

سابق انڈین ہائی کمشنر برائے پاکستان ٹی سی اے راگھوان نے انڈیا رائٹس نٹ ورک کی جانب سے منعقدہ ایک ان لائن پروگرام میں بات کرتے ہوئے اشارہ دیاکہ پاکستان میں ایک انتشار کااحساس ہے جو افغانستان میں امریکی شکست اور ”توہین“ کی وجہہ سے ہے‘ اسلام آباد کواسبات کی توقع نہیں تھا کہ طالبان اس تیزی کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوجائے گا۔

چین کا ٰزوایہ
بلوچستان صوبہ کے گواڈار کے حالیہ خود کش حملے کے بعدبالخصوص بیجنگ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے‘ کو چین پاکستان سی پی ای سی تعمیراتی مقام کے قریب میں ہے۔ اس حملے میں چینی باشندوں کونشانہ بنایاگیاتھا۔

ایک بڑی مایوسی میں پچھلے ماہ پاکستان کے خیبر پختوان میں جولائی کے دوران ایک بس میں دھماکہ پیش آیاتھا جس میں نو چینی مارے گئے تھے۔

انڈیا نیراٹیو سے بات کرتے ہوئے ایک جانکار نے بتایاکہ ”ان حملوں کے بعد پاکستان اور چین دونوں اتحادیوں کے درمیان میں جو بات ابھرکر سامنے ائی ہے وہ چین کے لئے سی پی ای سی ایک تاج میں ہیرا ہے اور بعد میں وہ سکیورٹی سے متعلق معاملات کی قریب سے نگرانی کرے گا۔

ان حالیہ حملوں نے اچانک حالات کوبدل دیاہے“

طالبان پاکستان کے لئے بھی ایک مسئلہ ہے
متعدد دھڑوں پر طالبان مشتمل ہے ان میں کچھ مخالف پاکستان ہیں۔ بروکنگ کے بموجب پاکستانی فوج کے ساتھ جنگ کرنے والی افغان طالبان کو افغان حکومت کے گرنے کافائدہ ہوگا۔

مذکورہ افغان طالبان کا ”پاکستانی میں اپنے ساتھی ہم عقیدہ لوگوں کے ساتھ خراب تعلقات جن کے ساتھ ہیں“ وہ شیعہ ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ”اس سے علاقائی کشیدگی پاکستان میں بڑھے گی جہاں پر افغانستان سے زیادہ شیعہ لوگوں کی آبادی ہے“۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں