دبئی: متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے نئے حکمرانوں پر اثر و رسوخ کی سفارتی جنگ میں قطر کے خلاف جاتے ہوئے کابل ایئرپورٹ کا انتظام چلانے کے لیے طالبان سے بات چیت کی۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ملک میں موجود ایک مغربی سفارتکار نے بتایا کہ یو اے ای حکام نے ایئرپورٹ کو آپریٹ کرنے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں طالبان عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔یہ مذاکرات ظاہر کرتے ہیں کہ ممالک کس طرح طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ شدت پسند اسلامی گروہ بڑی حد تک الگ تھلگ ہی ہے اور اب تک اسے کسی ملک کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر کرنے سے انکار کرنے والے ذرائع کے مطابق اماراتی حکام قطر کے سفارتی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے خواہاں ہیں۔اگست میںامریکہ کے واپس جانے کے بعد افغانستان سے انخلا کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد قطری ترکی کے ساتھ مل کر حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو چلانے میں مدد کر رہے ہیں، اور کہہ چکے ہیں کہ وہ اس آپریشن کو سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ یو اے ای نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں کابل ایئرپورٹ چلایا تھا اور وہ اب بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی اور محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے اسے چلانے میں مدد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، ابو ظبی نے بھی انخلا کی حالیہ کوششوں میں معاونت کی تھی۔دوسری جانب طالبان اور قطری حکام نے اس حوالے سے بیان دینے کی درخواست پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔دو سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ طالبان نے بھی یو اے ای سے مالی مدد مانگی ہے حالانکہ یہ واضح نہیں کہ یہ ایئرپورٹ کے حوالے سے ہے یا نہیں۔اماراتی وزارت خارجہ کے عہدیدار اور ڈائریکٹر آف انٹرنیشنل سیکیورٹی کوآپریشن سلیم الزابی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ یو اے ای طالبان کو مالی مدد فراہم کرنے پر غور کررہا ہے۔سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ طالبان اور ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے والوں کے درمیان یہ اہم معاملہ بھی حل کرنا باقی ہے کہ سائیٹ پر سیکیورٹی کون فراہم کرتا ہے۔اس کے باوجود قطر کی اسپیشل فورسز اس وقت ایئرپورٹ کے احاطے میں سیکیورٹی فراہم کررہی ہیں جبکہ طالبان کی خصوصری فورس ایئرپورٹ کے باہر گشت کرتی ہیں۔اب تک دنیا کے ممالک طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ گروپ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں