افغانستان میں طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ہونے والی ہنگامی صورت حال کے دوران کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوجی کو دیے جانیوالا بچہ بلاآخر اس کے اہلخانہ کو واپس مل گیا ہے۔افغان بچہ سہیل احمدی جب 19 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ سے لاپتہ ہوا تھا تو اس وقت اس کی عمر صرف دو برس تھی، تاہم وہ بچہ اب ایک 29 سالہ ٹیکسی ڈرائیور حامد صفی کو مل گیا، جسے اس نے سہیل احمدی کے دادا کے حوالے کردیا ہے، اپنے کھوئے ہوئے پوتے کو حاصل کرنے کے بعد بچے کے دادا کافی خوش ہیں۔

گزشتہ برس کابل ایئرپورٹ پر بچے کے والد نے اسے امریکی فوجی کے ہاتھوں میں دیا تھا، جس کے بعد وہ بچہ کہیں غائب ہوگیا تھا، تاہم نومبر 2021 میں افغان شیر خوار بچے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں اس کے لاپتہ ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔اس وقت سہیل احمدی کی عمر صرف دو ماہ تھی تاہم اس بچے کی گمشدگی کی خبر اور تصویر میڈیا پر آنے کے بعد کابل میں موجود ایک ٹیکسی ڈرائیور کو یہ بچہ ایئرپورٹ کے قریب مل گیا تھا جس کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔

نومبر میں اس کی تصاویر کے ساتھ شائع ہونے والی رائٹرز کی ایک خصوصی کہانی کے بعد، بچہ کابل میں موجود تھا جہاں حامد صافی نامی 29 سالہ ٹیکسی ڈرائیور نے اسے ہوائی اڈے پر پایا اور اسے اپنے گھر لے گیا تھا، مگر اس نے بچے کو اس کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا، افغان پولیس نے 7 ہفتوں کے بعد ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر اس بچے کو کابل میں موجود اس کے دادا اور دیگر رشتہ داروں کے حوالے کردیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ بچے کا والد امریکی سفارت خانے میں 10 سال تک سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتا رہا، 19 اگست 2021 کو وہ اپنی بیوی اور 5 بچوں کے ساتھ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے رش کے باعث پریشان کھڑا ہوا تھا کہ وہاں موجود ایئرپورٹ کی دیوار پر کھڑے امریکی فوجیوں میں سے ایک کو اس نے اپنا بچہ حوالے کردیا تھا۔

بچے کے والد کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے 2 ماہ کے بچے سہیل کو امریکی فوجی کے حوالے اس لیے کیا تھا کہ اس رش میں کہیں بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

مرزا علی اور اس کے گھر والوں کو کابل ایئرپورٹ کی دیوار کے دوسری طرف پہنچنے میں آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا تھا، تاہم جب وہ اندر داخل ہوئے تو اسے اپنا بچہ کہیں نظر نہیں آیا تھا، جب اس نے وہاں موجود ایئرپورٹ پر لوگوں سے اپنے بچے کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تو اسے ایک فوجی نے بتایا تھا کہ اس کے بچے کو بچوں کے لیے بنائے گئے ایک خصوصی زون میں منتقل کردیا گیا ہے، مگر جب سہیل کا والد وہاں پہنچا تو اسے بچہ کہیں نظر نہیں آیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں