کائنات کو ’خدا کی آنکھ‘ سے دیکھنے والا کیپلر کون تھا؟

0 2

اگر آپ نے یوہانس کیپلر کے بارے نہیں سن رکھا تو یہ بڑی بات نہیں مگر ان کی میراث یا ان کی خدمات ہمارے اطراف میں موجود و زندہ ہیں۔ اگر کیپلر آج زندہ ہوتے تو وہ اپنی 450 ویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ وہ سائنس کے میدان میں انقلاب لانے والے اولین مفکرین میں سے ایک ہیں۔ ان کی تحقیق کی وجہ سے کائنات کو دیکھنے اور سمجھنے کا ہمارا زاویہ تبدیل ہوا۔

یوہانس کیپلر ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھے۔ ان کا شمار کوپرنیکس، گیلیلیو اور نیوٹن جیسے قد آور محققین میں ہوتا ہے۔ آج سائنس ان کے کندھوں پر ہی کھڑی ہے۔

یوہانس کیپلر کے حالات زندگی
کیپلر ستائیس دسمبر 1571ء کو جنوبی جرمن شہر شٹٹ گارٹ کے قریب پیدا ہوئے تھے۔ ان کی وجہ شہرت سیاروی حرکت کے ان کے تین قوانین ہیں۔ انہیں نے یہ تینوں 1609ء اور 1621ء کے درمیان پیش کیے تھے۔ یہ قانون ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ سیارے کس طرح سے ہمارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب فلکیات اور طبیعات کے مابین ایک واضح تقسیم موجود تھی، کیپلر ان دونوں کو ملانا چاہتے تھے۔ اور اس کے لیے انہوں نے سائنسی خیالات بھی پیش کیے تھے۔

کیپلر کے قوانین
اس سب کا آغاز کیپلر کی اس دریافت سے ہوا، جس کے مطابق مریخ سورج کے گرد بیضوی شکل میں حرکت کرتا ہے۔ اس پہلی دریافت کے ذریعے کیپلر کو یہ احساس ہوا کہ تمام سیارے سورج کے گرد مخلتف رفتار کے ساتھ بیضوی مدار میں حرکت کرتے ہیں۔اس طرح اس ہیلیو سینڑک تھیوری میں مزید بہتری آئی، جو پولینڈ کے ریاضی دان اور ماہر فلکیات نکولاؤس کوپرنیکس نے تجویز کی تھی۔ انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔

کیپلر کے قوانین برائے سیاروی حرکت 1680ء کے آئزک نیوٹن کے قانون برائے کشش ثقل کے لیے ضروری تھے۔ نیوٹن کے قانون کی رو سے تمام اجسام ایک دوسرے کو کشش ثقل کی قوت سے کھینچتی ہیں۔ اس سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ سیارے کیوں سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔

کیپلر کا حرکت کا قانون
کیپلر کے قوانین نیچرل آبجیکٹس کی حرکات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔یہ ہمیں ستاروں کے نظاموں اور ان ایکسٹرا سولر پلانیٹس کو سمجھنے میں بھی مدد کرتے ہیں، جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں۔

سائنس اور مذہب ایک ساتھ
کیپلر ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے تھے، جب سائنسدان اور محققین مذہب اور کلیسا کی حدود میں رہ کر کام کرتے تھے۔ سائنس اور مذہب کے درمیان مماثلت پیدا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا تھا اور کئی فلسفی اور سائنسدان اس کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔

کیپلر کے معاملے میں مذہب نے ایک مثبت کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے سیاروں کی حرکت کے حوالے سے اپنی دریافتوں کو ‘ قانون‘ کہنے سے گریز کیا بلکہ اس کے بجائے انہیں آفاقی ہم آہنگی سمجھا، جو خدا کے کائنات کی تخلیق کے ڈیزائن کی عکاس ہے۔

اس دور میں سکولوں کا تمام نظام کلیسا کے زیر اثر چلتا تھا۔ کیپلر کو چرچ کے ذریعے وظیفہ ملا تھا، جس کے بعد ہی سائنسی میدان کا ان کا یہ سفر شروع ہوا تھا۔ کیپلر ابتدا میں ماہر الہیات یا عالم دین بننا چاہتے تھے۔ تاہم پھر مشائیل میسٹلن ان کے استاد بنے اور انہوں نے کیپلر کو کوپرنیکس کے نظریات سے متعارف کروایا۔ اور اسی نے کیپلر کی دریافتوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کیپلر نے کہا تھا کہ خدا نے ستاروں کے بارے میں مطالعے میں ان کی رہنمائی کی تھی۔ وہ خدا کو سورج کی علامت سمجھتے تھے۔